Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 41:46 Prev 41:44


Arabic

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا اگر تیرے رب نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر دی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں


English (Sahih International)

And We had already given Moses the Scripture, but it came under disagreement. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been concluded between them. And indeed they are, concerning the Qur’an, in disquieting doubt


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 45{ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو بھی کتاب دی تھی ‘ تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا۔“ { وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ } ”اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ کردیا جاتا۔“ اللہ تعالیٰ کی تقویم میں ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے ‘ اسی طرح ان کے فیصلے کا بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وقت طے کررکھا ہے۔ اگر یہ وقت پہلے سے طے نہ ہوتا تو ان کا فیصلہ اب تک چکا دیا جاتا۔ { وَاِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ } ”اور یقینا وہ اس کے بارے میں خلجان انگیز شک میں مبتلا ہیں۔“ یہاں مِنْہُ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی پہلے انہوں نے خواہ مخواہ اختلافات کھڑے کیے۔ لیکن جب ہم نے ان اختلافات کی وضاحت کے لیے یہ کتاب بھیج دی تو اب وہ اس کے بارے میں ایسے شک و شبہ میں مبتلا ہوگئے ہیں جس نے انہیں سخت خلجان اور الجھن میں ڈال دیا ہے اور وہ اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 45 and 46.

پچھلے پيغمبروں كے ذريعه جب خدائي سچائي منكشف كي گئي تو كچھ لوگوں نے اس کو مانا اور کچھ لوگوں نے نهيں مانا۔ يهي معامله اس وقت بھي پيش آيا جب كه پيغمبر آخر الزماں كي بعثت هوئي۔

خدائي سچائي كے ساتھ يه اختلافي معامله انسان كيوں كرتا هے۔ اس كي وجه موجوده امتحاني حالت هے۔ موجوده امتحان كي دنيا ميں سچائي جب بھي ظاهر هوتي هے تو اس كے ساتھ ايك پرده بھي لگا رهتا هے۔ لوگ اسي پرده ميں اٹك كر ره جاتے هيں۔ جس پرده كو انھيں پھاڑناتھا اس كو وه اپنے ليے شك و شبه كا سبب بنا ليتے هيں۔

مگر يه شك قيامت ميں كسي كے لیے عذر نهيں بن سكتا۔ كيونكه يه صرف اس بات كا ثبوت هے كه انسان حق كے معامله ميں سنجيده نهيں تھا۔ انسان اپنے دنيا كے مفاد كے معامله ميں پوري طرح سنجيده هوتا هے۔ اس ليے وه تمام پردوں كو پھاڑ كر اس كي حقيقت تك پهنچ جاتا هے۔ اسي طرح اگر وه اپنے آخرت كے مفاد كے بارے ميں سنجيده هوجائے تو وه شك كے تمام پردوں كو پھاڑ كر حقيقت كو اس كي بے نقاب صورت ميں ديكھ لے۔


Connections

  • Previous: 41_44
  • Next: 41_46
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes