Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلذِّكۡرِ لَمَّا جَآءَهُمۡۖ وَإِنَّهُۥ لَكِتَٰبٌ عَزِيزٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام نصیحت آیا تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے
English (Sahih International)
Indeed, those who disbelieve in the message after it has come to them… And indeed, it is a mighty Book
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 41{ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِالذِّکْرِ لَمَّا جَآئَ ہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کیا جبکہ یہ ان کے پاس آگئی۔“ اس سے آگے اس مفہوم کے الفاظ محذوف ہیں کہ ”اب ان لوگوں کی شامت آنے والی ہے“۔ نوٹ کیجیے کہ اس سورت میں یہاں تیسری مرتبہ قرآن کا ذکر آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 3 اور آیت 26 میں بھی قرآن کا ذکر آچکا ہے۔ یہاں قرآن کو ”الذکر“ یعنی یاد دہانی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب تو اس گواہی کو اجاگر کرکے تمہارے سامنے لا رہی ہے جو پہلے سے تمہاری فطرت کے اندر مخفی ہے۔ اللہ کی معرفت اور اس کی محبت تو تمہاری ارواح کے اندر پہلے سے موجود تھی لیکن تمہاری عدم توجہی کی وجہ سے اس معرفت پر غفلت اور ذہول کے پردے پڑگئے تھے ‘ جس کے نتیجے میں تم اپنی فطرت کی اصل پہچان کو بھول کر اللہ ہی کو بھول گئے تھے۔ سورة الحشر کی آیت 19 میں اہل ایمان کو اسی حوالے سے تاکید کی گئی ہے : { وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹہُمْ اَنْفُسَہُمْط } کہ اے اہل ایمان ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو نتیجتاً اللہ نے انہیں ایسا کردیا کہ وہ خود اپنے آپ ہی کو بھول گئے۔ چناچہ یہاں قرآن کو ”الذکر“ کہہ کر گویا اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کتاب انسانی فطرت میں مضمرمعرفت خداوندی کے ابدی سبق کی یاد دہانی کے لیے آئی ہے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کردیا ہے اب ان کی شامت آنے والی ہے۔ { وَاِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیْزٌ} ”انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بلاشبہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 41 to 43.
قرآن ايك زبردست كتاب هے اور اس كے زبردست هونے كا ثبوت يه هے كه باطل نه آگے سے اس ميں آسكتا هے اور نه پيچھے سے۔ يعني اس ميں كسي طرف سے دخل اندازي كا كوئي امكان نهيں، نه براهِ راست اس ميں كوئي بگاڑ پيدا كيا جاسكتا هے اور نه بالواسطه۔
يه ايك انتهائي غير معمولي پيشين گوئي هے۔ اس عالم اسباب ميں اس پيشين گوئي كے پورا هونے كے ليے ضروري هے كه قرآن كي حامل ايك طاقتور قوم مستقل طورپر موجود رهے۔ پچھلے نبيوں كي تعليمات سے اس كي عدم مطابقت ظاهر نه هوسكے۔ كوئي شخص كبھي قرآن كا جواب لكھنے پر قادر نه هو۔ علوم كا ارتقا اس كي كسي بات كو كبھي غلط ثابت نه كرے۔ تاريخ كا اتار چڑھاؤ كبھي اس پر اثرانداز نه هونے پائے۔ قرآن كي زبان (عربي) هميشه ايك زنده زبان كے طورپر باقي رهے۔
قرآن كے نزول كے بعد كي لمبي تاريخ بتاتي هے كه يه تمام اسباب حيرت انگيز طور پر اس كے حق ميں جمع رهے هيں۔ ان تمام واقعات كي يكجائي اس قدر غير معمولي هے كه قرآن كے سوا كوئي بھي دوسري كتاب نهيں جس كے حق ميں وه ڈيڑھ هزار برس كي مدت تك مسلسل جمع رهے هوں۔ يهي اس بات كي كافي دليل هے كه قرآن خدا كي كتاب هے۔
قرآن كي عظمت كو دليل كي سطح پر پانا مطلوب هے،نه كه طاقت كي سطح پر۔ طاقت كي سطح پر اس كي عظمت قيامت ميں ظاهر هوگي۔ مگر يه ظهور صرف اس ليے هوگا كه جن لوگوں نے دليل كي سطح پر خدا كي سچائي كو نهيں مانا تھا انھيں ذليل كركے خدا كي سچائي كو ماننے پر مجبور كيا جائے۔