Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلۡأَرۡضَ خَٰشِعَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡۚ إِنَّ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاهَا لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰٓۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سونی پڑی ہوئی ہے، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا، یکایک وہ پھبک اٹھتی ہے اور پھول جاتی ہے یقیناً جو خدا اس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے یقیناً وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
English (Sahih International)
And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 39{ وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً } ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ دبی پڑی ہے“ یعنی زمین کی وہ کیفیت کہ جب وہ بنجر اور ویران ہوتی ہے اور اس پر روئیدگی وغیرہ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ { فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآئَ اہْتَزَّتْ وَرَبَتْ } ”پھر جب ہم اس پر پانی برسادیتے ہیں تو اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ ابھر آتی ہے۔“ بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں جیسے کہ مردہ زمین میں جان پڑگئی ہو۔ { اِنَّ الَّذِیْٓ اَحْیَاہَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰیط اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ”یقینا وہ اللہ جس نے اس کو زندہ کیا ہے وہی ُ مردوں کو بھی زندہ کرے گا۔ یقینا وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 39 and 40.
سوكھي زمين ميں بارش كا برسنا اور اس سے سبزه كا اگنا ايك ايسا مظهر هے جو هر آدمي كے سامنے بار بار آتا هے۔ يه ايك معنوي حقيقت كي مادي تمثيل هے۔ اس طرح انسان كو بتايا جاتا هے كه خدا نے يهاں اس كے خشك وجود كو سرسبز وشاداب كرنے كا وسيع انتظام كرركھا هے۔ زمين كي مٹي پاني كو اپنے اندر داخل هونے ديتي هے اس وقت يه ممكن هوتا هے كه بارش اس كو سرسبز وشاداب كرنے كا ذريعه بنے۔ اِسي طرح انسان اگر خدا كي هدايت كو اپنے اندر اترنے دے تو اس كا وجود بھي هدايت پاكر لهلها اٹھے گا۔
خدا كي هدايت سے فيض ياب نه هونے كي سب سے بڑي وجه يه هوتي هے كه انسان خدا كي باتوں ميں الحاد (انحراف) كرتا هے۔ خدا كي رهنمائي اس كے سامنے آتي هے تو وه اس كو سيدھے مفهوم ميں نهيں ليتا۔بلكه اس ميں ٹيڑھ نكال كر اس كو منحرف كرديتاهے۔ اس طرح خدا كي رهنمائي اس كے ذهن كا جزء نهيں بنتي۔ وه اس كي روح كو غذا دينے والي ثابت نهيں هوتي۔
خدا كي رهنمائي كو سيدھي طرح قبول كرنے والوں كے ليے جنت كا انعام هے، اور خدا كي رهنمائي ميں ٹيڑھا مفهوم نكالنے والوں كے لیے جهنم كا عذاب۔