Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلَّيۡلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُۚ لَا تَسۡجُدُواْ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ ٱلَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو
English (Sahih International)
And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostate to Allah, who created them, if it should be Him that you worship
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 37{ وَمِنْ اٰیٰتِہِ الَّـیْلُ وَالنَّہَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ } ”اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں رات ‘ دن ‘ سورج اور چاند۔“ { لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ } ”تم سورج کو سجدہ مت کرو اور نہ چاند کو“ { وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَہُنَّ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ } ”بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ‘ اگر تم واقعتا اسی کی بندگی کرتے ہو۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 37 and 38.
انسان کی سب سے بڑی گمراہی اس کی ظاہر پرستی ہے۔ قدیم زمانہ کے انسان کو سورج اور چاند اور ستارے سب سے زیادہ نمایاں نظر آئے ۔ اس لیے اس نے ان مظاہر کو خدا سمجھ لیا اور ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مادی تہذیب کی جگمگاہٹ لوگوں کو نمایاں دکھائی دے رہی ہے ۔اس لیے اب مادی تہذیب کو وہ مقام دے دیا گیا ہے جو قدیم زمانہ میں سورج اور چاند کو حاصل تھا۔ حالانکہ خواہ سورج اور چاند ہوں یا دوسرے مظاہر سب کے سب خدا کی مخلوق ہیں۔انسان کو چاہیے کہ وہ خالق کا پرستار رہے نہ کہ اس کی مخلوقات کا۔ تکبر کرنے والوں کا تکبر دعوت کے مقابلے میں نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ داعی کے مقابلے میں ہوتا ہے ۔ وقت کے بڑوں کو بظاہر داعی اپنے سے چھوٹا نظر آتا ہے ۔اس لیے وہ اس کو چھوٹا سمجھ لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کی طرف سے پیش کئے جانے والے پیغام کو بھی ۔