Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَنۡ أَحۡسَنُ قَوۡلٗا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں
English (Sahih International)
And who is better in speech than one who invites to Allah and does righteousness and says, “Indeed, I am of the Muslims
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 33{ وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ } ”اور اس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف“ جس خوش قسمت شخص کو ایمان کے بعد ”استقامت“ کا مقام حاصل ہوچکا ہو ‘ اسے بھلا اب کس بات کی دھن ہوگی ؟ کیا وہ اب بھی مال و دولت ِدنیا کے پیچھے دوڑے گا ؟ یا کیا حکومت اور اقتدار کے حصول کی خواہش اب بھی اس کے دامن دل کو اپنی طرف کھینچے گی ؟ نہیں ! ہرگز نہیں ! اس ”متاعِ غرور“ کو تو وہ ٹھکرا کر بہت آگے نکل آیا ہے۔ مسند ِاستقامت پر رونق افروز ہونے کے بعد دنیا ومافیہا کے بارے میں اس کی ترجیحات بہت واضح ہوچکی ہیں۔ اب تو وہ خوب سمجھتا ہے کہ یہ سب آنی جانی چیزیں ہیں ‘ آج ہیں تو کل نہیں ہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ دنیا اور اس کے لوازمات کی بہتات سے مسئولیت بڑھتی ہے اور حساب آخرت مشکل ہوجاتا ہے۔ چناچہ اب اس کے دل میں ایک ہی تڑپ ہے اور وہ ہے دعوت الی اللہ کی تڑپ۔ اب اس کی دوڑ دھوپ اور جدوجہد کا اگر کوئی ہدف ہے تو بس یہی کہ میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کو راہ ہدایت پر لے آئوں۔ { وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔“ اعمالِ صالحہ کا مفہوم ”استقامت“ کے اندر بھی پوشیدہ ہے ‘ لیکن یہاں پر اس کا علیحدہ ذکر بھی آگیا ہے ‘ اس لیے کہ دعوت الی اللہ اور عمل صالح لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ایک داعی کا اپنا عمل درست نہیں ہوگا تو نہ صرف یہ کہ اس کی دعوت موثر نہیں رہے گی بلکہ وہ دعوت کی بدنامی کا باعث بھی بنے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 33 to 36.
قرآن کی دعوت اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔ انسان کو اس کے رب سے جوڑنا، انسان کو خدا کی یاد میں جینے والا بنانا، انسان کے اندر یہ شعور ابھارنا کہ وہ ایک خدا کو اپنا مرکز توجہ بنالے۔ یہی قرآنی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ اور بلاشبہ اس پکارسےبہتر کوئی پکار نہیں۔
مگر خدا کا داعی صرف وہ شخص بنتا ہے جو اپنی دعوت میں اس حد تک سنجیدہ ہو کہ جو کچھ دوسروں سے منوانا چاہتا ہے اس کو وہ خود سب سے پہلے مان چکا ہو، وہ دوسروں سے جو کچھ کرنے کےلیے کہہ رہا ہے، خود سب سے پہلے اس کا کرنے والا بن جائے۔
داعی کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کرے۔ دوسرے لوگ برائی کریں تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے۔ وہ اشتعال کے مقابلہ میں اعراض اور اذیت رسانی کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ اختیار کرے۔ یک طرفہ حسن سلوک میں اللہ تعالیٰ نے زبردست تسخیری طاقت رکھی ہے۔ خدا کا داعی خدا کی بنائی ہوئی اس فطرت کو جانتا ہے اور اس کو آخری حد تک استعمال کرتا ہے، خواہ اس کےلیے اس کو اپنے جذبات کو کچلنا پڑے، خواہ اس کی خاطر اپنے اندر پیدا ہونے والے رد عمل کو ذبح کرنے کی نوبت آجائے۔
جب بھی داعی کے اندر اس قسم کا خیال آئے کہ فلاں بات کا جواب دینا ضروری ہے، فلاں ظلم کے خلاف ضرور کارروائی كي جاني چاہيے ورنہ دشمن دلیر ہو کر اور زیادہ زیادتیاں کرے گا تو سمجھ لینا چاہيے کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔ مومن اور داعی کا فرض ہے کہ وہ ایسے خیال سے خدا کی پناہ مانگے، نہ کہ اس کے پیچھے دوڑنا شروع کردے۔