Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَكۡثَرَ مِنۡهُمۡ وَأَشَدَّ قُوَّةٗ وَءَاثَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کو اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے تعداد میں زیادہ تھے، اِن سے بڑھ کر طاقتور تھے، اور زمین میں اِن سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے ہیں جو کچھ کمائی اُنہوں نے کی تھی، آخر وہ اُن کے کس کام آئی؟
English (Sahih International)
Have they not traveled through the land and observed how was the end of those before them? They were more numerous than themselves and greater in strength and in impression on the land, but they were not availed by what they used to earn
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 82 { اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ غور کرتے کہ کیسا انجام ہوا ان کا جو ان سے پہلے تھے !“ { کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْہُمْ وَاَشَدَّ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ”وہ ان سے کہیں زیادہ تھے تعداد میں اور زیادہ شدید تھے طاقت میں بھی اور زمین میں نشانات چھوڑنے کے اعتبار سے بھی“ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تو ان کے کچھ کام نہ آیا وہ سب کچھ جو وہ کماتے رہے تھے۔“ ان کے یہ سارے کارنامے اور ساری کمائی انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 82 to 85.
علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ علم جس سے دنیا کی ترقیاں حاصل ہوتی ہیں۔ دوسرا علم وہ ہے جو آخرت کی کامیابی کا راستہ بتاتا ہے۔ جن لوگوںکے پاس دنیا کا علم ہو ان کے علم کا شاندار نتیجہ فوری طور پر دنیا کی ترقیوں کی صورت میں سامنے آجاتاہے۔ اس کے برعکس، جس شخص کے پاس آخرت کا علم ہو اس کے علم کے نتائج فوری طور پر محسوس شکل میں سامنے نہیں آتے۔
یہ فرق ان لوگوں کے اندر برتری کی نفسیات پیدا کردیتاہے جو دنیا کا علم رکھتے ہوں۔ چنانچہ ایسی قوموں کے پاس جب ان کے پیغمبر آئے تو انھوںنے اپنے کو زیادہ سمجھا اور پیغمبر کو کم خیال کیا۔ حتی کہ وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ مگر اللہ نے ان قوموں کو ان کی تمام قوتوں اور شاندار ترقیوں کے باوجود ہلاک کردیا۔ اب ان کے تاریخی آثار یا تو کھنڈر کی شکل میں ہیں یا زمین کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کےلیے ایک تاریخی مثال قائم کردی کہ — مستقل کامیابی کا راز علم آخرت میں ہے، نہ کہ علم دنیا میں۔
ان قوموں نے ابتداء ً اپنے پیغمبروں کا انکار کیا۔ پیغمبروں کے پاس دلیل کی قوت تھی۔ مگر یہ قومیں دلیل کی قوت کے آگے جھکنے کےلیے تیار نہ ہوئیں۔ آخر کارخدا نے عذاب کی زبان میں انھیں امر واقعی سے آگاہ کیا۔ اس وقت وہ لوگ جھک کر اقرار کرنے لگے۔ مگر یہ اقرار ان کے کام نہ آیا۔ کیوں کہ اقرار وہ مطلوب ہے جو دلیل کی بنیاد پر ہو۔ اس اقرار کی کوئی قیمت نہیں جو عذاب کو دیکھ کر کیا جائے۔