Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 40:70 Prev 40:68


Arabic

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ أَنَّىٰ يُصۡرَفُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں، کہاں سے وہ پھرائے جا رہے ہیں؟


English (Sahih International)

Do you not consider those who dispute concerning the signs of Allah - how are they averted


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 69 { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ َیُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ } ”کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے حال پر جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں !“ اَلَمْ تَرَکا لفظی ترجمہ تو یہ ہوگا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ لیکن اس کا مفہوم یہی ہے کہ کیا تم نے غور نہیں کیا ؟ { اَنّٰی یُصْرَفُوْنَ } ”وہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں ؟“ یعنی وہ حق کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں محمد ﷺ کا دور نصیب ہوا ‘ آپ ﷺ کے ساتھ ایک شہر اور ایک جگہ اکٹھے رہنے کا موقع ملا۔ لیکن ان کی بد قسمتی ملاحظہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انعام کے باوجود بھی یہ لوگ ہدایت سے محروم رہ گئے۔ مقامِ عبرت ہے ! دیکھو ‘ یہ لوگ کہاں تک پہنچ کر ناکام لوٹے ہیں : ؎قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب ِبام رہ گیا !


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 69 to 76.

ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔

وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔


Connections

  • Previous: 40_68
  • Next: 40_70
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes