Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 40:61 Prev 40:59


Arabic

وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تمہارا رب کہتا ہے “مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے


English (Sahih International)

And your Lord says, “Call upon Me; I will respond to you.” Indeed, those who disdain My worship will enter Hell [rendered] contemptible


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 60 { وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ } ”اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو ‘ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“ ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ اس سورت کا مرکزی مضمون دعا ہے۔ چناچہ نوٹ کیجیے یہاں پھر فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے بندے ہو تو مجھ سے مانگو ! انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس سے مانگا جائے تو اس پر گراں گزرتا ہے ‘ جبکہ اللہ سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ گویا عطائے خداوندی خود سائلوں کی تلاش میں رہتی ہے ع ”ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں !“ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ رات کے پچھلے پہر اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتے ہیں اور ایک ندا ہوتی ہے : ھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَاُعْطِیَہُ ، ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاَغْفِرَلَـہٗ ، ھَلْ مِنْ تَائِبٍ فَاَتُوْبَ عَلَیْہِ ، ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَاُجِیْبَہٗ 1 ”ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں ؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں ؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں ؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ میں اس کی پکار قبول کروں ؟“ { اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیْنَ } ”یقینا وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر۔“ قبل ازیں عبادت اور دعا کے لازم و ملزوم ہونے کے بارے میں گفتگو ہوچکی ہے اور اس حدیث کا ذکر بھی ہوچکا ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ چناچہ اس آیت میں یہ نکتہ مزید واضح ہوگیا ہے۔ یہاں پر پہلے دعا کا ذکر کیا گیا ہے ادْعُوْنِیْٓ اور پھر اسی کے لیے عبادت کا لفظ لایا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں دعا اور عبادت مترادف الفاظ کے طور پر آئے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 60 to 63.

زمین پر رات اوردن کا باقاعدہ نظام اور اس طرح کے دوسرے حیات بخش واقعات اس سے زیادہ بڑے ہیں کہ کوئی انسان یا تمام مخلوقات مل کر بھی ان کو ظہور میں لاسکیں۔ یہ ایک کھلا ہوا قرینہ ہے جو بتاتا ہے کہ جو خالق ہے وہی اس لائق ہے کہ اس کو معبود بنایا جائے۔ آدمی کو چاہيے کہ اسی کے آگے جھکے اوراسی سے امیدیں قائم کرے۔

مگر آدمی خالقِ کائنات سے عبادت اور دعا کا حقیقی تعلق قائم نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر خالق میں اٹکا ہوا ہوتاہے۔ کچھ لوگ زندہ یا مردہ بتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ اور کچھ لوگ خود اپنی ذات میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں جس کا دوسرا نام کبر ہے۔ خدا بار بار ایسے دلائل ظاہر کرتا ہے جو اس فریب کی تردید کرنے والے ہوں۔ مگر انسان کوئی نہ کوئی جھوٹی توجیہ کرکے انھیں نظر انداز کردیتاہے۔

اس قسم کا ہر رویہ خالق کائنات کی ناقدری ہے۔ اور جو لوگ خالق کائنات کی ناقدری کریں وہ جہنم کے سوا کہیں اور جگہ نہیں پاسکتے۔


Connections

  • Previous: 40_59
  • Next: 40_61
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes