Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُومُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے،
English (Sahih International)
Indeed, We will support Our messengers and those who believe during the life of this world and on the Day when the witnesses will stand
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 51 { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَـقُوْمُ الْاَشْہَادُ } ”ہم لازماً مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی ‘ اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 51 to 55.
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔