Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَوَقَىٰهُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِ مَا مَكَرُواْۖ وَحَاقَ بِـَٔالِ فِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
آخرکار اُن لوگوں نے جو بری سے بری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آ گئے
English (Sahih International)
So Allah protected him from the evils they plotted, and the people of Pharaoh were enveloped by the worst of punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 45 { فَوَقٰــٹـہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوْا } ”تو بچالیا اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے“ یہاں پر ہُ کی ضمیر کا مرجع مومن ِآلِ فرعون بھی ہوسکتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد مومن آلِ فرعون ہے کہ اللہ نے اسے فرعون کے انتقام کا نشانہ بننے سے بچالیا ‘ لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ مراد ہیں۔ چونکہ اس بات کا آغاز فرعون کی اس قرارداد سے ہوا تھا جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کرنے کی اجازت کے لیے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کی تھی۔ اس لیے زیادہ قرین ِقیاس یہی ہے کہ اس پوری تفصیل کے اختتام پر آیت زیر مطالعہ میں فرعون کے مذکورہ منصوبے کی ناکامی پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ مومن ِآلِ فرعون کی اس تقریر کے بعد دربار کا ماحول ایسا نہ رہا کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ کے قتل کی قرارداد پاس ہوسکتی۔ چناچہ فرعون اور اس کے درباری اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکے اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ { وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓئُ الْعَذَابِ } ”اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 45 and 46.
فرعون کے دربار کا رجل مومن پیغمبر نہیں تھا۔ مگر تنہا ہونے کے باوجود اللہ نے ا س کو فرعون کے ظالمانہ منصوبوں سے بچالیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر انبیاء کو بھی حمایتِ حق کی وہ نصرت ملتی ہے جس کا وعدہ انبیاء سے کیاگیا ہے۔
انسانوں کے اخروی انجام کا باقاعدہ فیصلہ اگرچہ قیامت میں ہوگا، مگر موت کے بعد جب آدمی اگلی دنیا میں داخل ہوتا ہے تو فوراً ہی اس پر کھل جاتا ہے کہ وہ پچھلی دنیا میں کیا کرکے یہاںآیا ہے اور اب اس کےلیے کون سا انجام مقدر ہے۔ اس طرح شعور کی سطح پر وہ موت کے بعد ہی اپنے انجام سے دوچار ہوجاتاہے۔ اور جسمانی سطح پر وہ قیامت میں خدا کی عدالت قائم ہونے کے بعداس سے دوچار ہوگا۔