Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَا يُجَٰدِلُ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَا يَغۡرُرۡكَ تَقَلُّبُهُمۡ فِي ٱلۡبِلَٰدِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اِس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے
English (Sahih International)
No one disputes concerning the signs of Allah except those who disbelieve, so be not deceived by their [uninhibited] movement throughout the land
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 4 { مَا یُجَادِلُ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْْبِلَادِ } ”نہیں جھگڑتے اللہ کی آیات میں مگر وہی لوگ جو کفر کرتے ہیں ‘ تو اے نبی ﷺ ! زمین میں ان کی چلت پھرت آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔“ یہاں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے سب مسلمانوں کو سمجھانا مقصود ہے کہ اے مسلمانو ! ان غیر مسلموں کے مادی وسائل ‘ ان کی طاقت ‘ ترقی اور ٹیکنالوجی تمہیں مرعوب نہ کرے۔ دیکھو ! کسی دنیوی ”سپر پاور“ کے دھوکے میں آکر کہیں تم اللہ کی قدرت اور طاقت کو بھول نہ جانا !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 4 to 6.
یہاں آیات اللہ سے مرادوہ دلائل ہیں جو دعوت حق کو ثابت کرنے کےلیے پیش کيے گئے ہوں۔ جو لوگ خدا کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ ان دلائل میں غیر متعلق بحثیں پیدا کرکے لوگوں کو اس شبہ میں ڈالتے ہیں کہ یہ دعوت حق کی دعوت نہیں ہے بلکہ محض ایک شخص (داعی) کی ذہنی اپج ہے۔
اس قسم کا جھوٹا مجادلہ بہت بڑا جرم ہے۔ تاہم موجودہ امتحان کی دنیا میں ایسے لوگوں کو ایک مقرر مدت تک مہلت حاصل رہتی ہے۔ اس کے بعد ان کےلیے وہی برا انجام مقدر ہے جو قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ کا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنے کو بڑا سمجھا تھا وہ چھوٹے کردئے گئے۔ اور جن لوگوں کو چھوٹا سمجھ لیا گیا تھا وہ اللہ کے نزدیک بڑے قرار پائے۔