Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَسۡبَٰبَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ كَٰذِبٗاۚ وَكَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَصُدَّ عَنِ ٱلسَّبِيلِۚ وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ إِلَّا فِي تَبَابٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
آسمانوں کے راستوں تک، اور موسیٰؑ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں مجھے تو یہ موسیٰؑ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے” اس طرح فرعون کے لیے اس کی بد عملی خوشنما بنا دی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا فرعون کی ساری چال بازی (اُس کی اپنی) تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی
English (Sahih International)
The ways into the heavens - so that I may look at the deity of Moses; but indeed, I think he is a liar.” And thus was made attractive to Pharaoh the evil of his deed, and he was averted from the [right] way. And the plan of Pharaoh was not except in ruin
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 37 { اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓی اِلٰہِ مُوْسٰی } ”یعنی آسمان کے راستوں تک ‘ پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے الٰہ کو“ یہ موسیٰ جس الٰہ کا ذکر کرتا ہے میں اس تک پہنچ کر خود اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ { وَاِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ کَاذِبًا } ”اور میرا گمان تو یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔“ { وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ } ”اور اس طرح فرعون کے لیے اس کا ُ برا عمل بھی ّمزین کردیا گیا“ یعنی فرعون کی نگاہوں میں اس کی بدعملی خوشنما بنا دی گئی۔ { وَصُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ } ”اور اسے روک دیا گیا سیدھی راہ سے۔ اور فرعون کی یہ چال نہیں تھی مگر تباہ ہونے کے لیے۔“ فرعون کی بےبسی کی ایک تصویر تو ہم قبل ازیں آیت 29 میں دیکھ آئے ہیں : { مَآ اُرِیْکُمْ اِلَّا مَآ اَرٰی وَمَآ اَہْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ } کہ دیکھو بھئی ! یہ تو میری رائے ہے ‘ مجھے جو بات صحیح محسوس ہوئی وہ میں نے آپ لوگوں کے سامنے رکھ دی۔ اب آیت زیر مطالعہ میں جو منظر دکھایا گیا ہے اس میں وہ پہلے سے بھی زیادہ بےبس نظر آ رہا ہے۔ یہ جملے بولتے ہوئے نہ تو اس نے مرد مومن کی کسی بات کا جواب دیا اور نہ ہی وہ اس سے نظریں ملا سکا۔ ایک طویل خاموشی کے بعد اس نے بات کی بھی تو اپنے وزیر سے کی اور بات بھی نہایت بےتکی اور لایعنی کی ! کہ مجھے کوئی اونچا سامینار بنا دو تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کو دیکھ سکوں ! واہ رے بادشاہ سلامت واہ ! اسے کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے ! اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف ایسی ہی ایک ”پختہ دلیل“ موجودہ دور کے لال بجھکڑوں کو بھی سوجھی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو چاندتک بھی ہو آئے ہیں ‘ ہمیں تو کہیں کوئی خدا نظر نہیں آیا۔ مردِ مومن نے بہر حال فرعون کی اس فضول اور بےمحل بات کو نظر انداز کر کے کمال سنجیدگی سے اپنی تقریر کو جاری رکھا :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 40:36.