Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقَالَ رَجُلٞ مُّؤۡمِنٞ مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَكۡتُمُ إِيمَٰنَهُۥٓ أَتَقۡتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ ٱللَّهُ وَقَدۡ جَآءَكُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ مِن رَّبِّكُمۡۖ وَإِن يَكُ كَٰذِبٗا فَعَلَيۡهِ كَذِبُهُۥۖ وَإِن يَكُ صَادِقٗا يُصِبۡكُم بَعۡضُ ٱلَّذِي يَعِدُكُمۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٞ كَذَّابٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، بول اٹھا: “کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آ جائیں گے اللہ کسی شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو
English (Sahih International)
And a believing man from the family of Pharaoh who concealed his faith said, “Do you kill a man [merely] because he says, ‘My Lord is Allah’ while he has brought you clear proofs from your Lord? And if he should be lying, then upon him is [the consequence of] his lie; but if he should be truthful, there will strike you some of what he promises you. Indeed, Allah does not guide one who is a transgressor and a liar
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 28 { وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌق مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗ } ”اور آل فرعون میں سے ایک مومن مرد نے ‘ جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا ‘ کہا :“ اس مرحلے پر اس مرد مومن نے صورت حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کلمہ حق زبان پر لانے کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ اس نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بھرے دربار میں اس مطلق العنان فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر ”حق گوئی و بےباکی“ کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور جملے گویا ع ”موتی سمجھ کے شان کریمی نے ُ چن لیے !“ اور پھر ان موتیوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے جاں نثارانِ حق کی آنکھوں کی طراوت کے لیے صفحاتِ قرآن کی زینت بنا دیا۔ چناچہ فرعون نے جونہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی قرارداد پیش کی ‘ یہ مرد مومن فوراً بول اٹھا اور اس نے فرعون اور تمام اہل دربار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا : { اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ } ”کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے !“ کیا کسی شخص کا اللہ کو رب ماننا تمہارے نزدیک اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں تم اس کی جان کے درپے ہوگئے ہو ؟ ایک مرتبہ جب مشرکین مکہ نے حضور ﷺ کی سر عام ہجو کی اور آپ ﷺ پر حملہ آور ہوئے تو اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رض بیچ میں آگئے اور انہوں رض نے مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے یہی الفاظ دہرائے تھے : اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ 1 ”کیا تم لوگ ایک شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کے درپے صرف اس لیے ہو رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے !“ { وَقَدْ جَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُم } ”حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔“ { وَاِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ } ”اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر آئے گا۔“ { وَاِنْ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ } ”اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔“ ایسی صورت میں تم پر عذاب الٰہی کی مار پڑے گی اور تم تباہ و برباد کردیے جائو گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ } ”یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا ‘ بہت جھوٹا ہو۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 28 and 29.
یہاں جس رجل مومن کا ذکر ہے وہ فرعون کے شاہی خاندان کا ایک فرد تھا اورغالباً وہ دربار کے اعلیٰ عہدیداروں میں سے تھا۔ یہ بزرگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئے۔ تاہم وہ ایمان چھپائے ہوئے تھے۔ مگر جب انھوںنے دیکھا کہ فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کررہا ہے تو وہ کھل کر حضرت موسیٰ کی حمایت پر آگئے۔ انھوںنے نہایت مؤثر اور نہایت حکیمانہ انداز میں حضرت موسیٰ کی مدافعت فرمائی۔
اس واقعہ میں ایک نصیحت یہ ہے کہ تبلیغ ایک ایسی طاقت ہے کہ خود دشمن کی صفوں میں اپنے ہمدرد اور ساتھی پیدا کرلیتی ہے، خواہ وہ دشمن خاندان فرعون جیسا ظالم اور متکبر کیوں نہ ہو۔