Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ہم نے موسیٰؑ کو
English (Sahih International)
And We did certainly send Moses with Our signs and a clear authority
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب آئندہ آیات میں ”مومن ِآلِ فرعون“ کا واقعہ بیان ہو رہا ہے جو اس سورت کا خاص مضمون ہے۔ وہ فرعون کے دربار میں بہت بڑے مرتبے پر فائز تھے۔ ظاہر ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ ان تک بھی پہنچی ہوگی۔ اس دعوت کے جواب میں اللہ نے ان کا سینہ کھول دیا اور وہ ایمان لے آئے۔ البتہ مصلحت کے تحت انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا۔ پھر ایک موقع پر جب فرعون نے اپنی کابینہ کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تجویز رکھی تو اس مرد حق سے خاموش نہ رہا گیا۔ چناچہ فرعون کی اس تجویز کے جواب میں انہوں نے بھرے دربار میں ایک بہت مدلل ّاور موثر تقریر کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ”حق گوئی و بےباکی“ کی پذیرائی یوں فرمائی کہ ان کی پوری تقریر کو قرآن کا حصہ بنا دیا۔ وہ نہ نبی تھے اور نہ رسول ‘ لیکن ان کی طویل تقریر جس شان سے اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے اس کی کوئی مثال قرآن میں کسی نبی یا رسول کے حوالے سے بھی نہیں ملتی۔ ان کے اس خصوصی اعزاز سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس شان سے اپنے بندوں کی قدر افزائی فرماتا ہے۔آیت 23 ‘ 24 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ’ اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ علیہ السلام ٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ ‘
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 23 to 25.
پیغمبروں کو عام دلائل کے ساتھ مزید ایسی معجزاتی تائید حاصل رہتی ہے جو ان کے فرستادۂ خدا ہونے کا انتہائی واضح ثبوت ہوتی ہے۔ مگر حق کو ماننا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے جو بلاشبہ کسی انسان کےلیے مشکل ترین قربانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل کے باوجود فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کی نبوت کا اقرار نہیںکیا۔
اس کے بجائے انھوں نے ایک طرف عوام کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ موسیٰ کا دعویٰ بے حقیقت ہے اور ان کے معجزے محض جادو کا کرشمہ ہیں۔دوسری طرف انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کی تعداد کو گھٹانے کےلیے اپنی سابقہ پالیسی کو مزید شدت کے ساتھ جاری کردیا جائے۔ تاکہ موسیٰ اپنی قوم (بنی اسرائیل) کے اندر اپنے ليے مضبوط بنیاد نہ پاسکیں۔ مگر انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ اپنی یہ تدبیر موسیٰ کے مقابلہ میں نہیں بلکہ خدا کے مقابلہ میں کررہے ہیں اور خدا کے مقابلہ میں کسی کي کوئی تدبیر کبھی کار گر نہیں ہوتی۔