Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 40:22 Prev 40:20


Arabic

۞أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُواْ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُواْ هُمۡ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗ وَءَاثَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن زیادہ طاقت ور تھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور اُن کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا


English (Sahih International)

Have they not traveled through the land and observed how was the end of those who were before them? They were greater than them in strength and in impression on the land, but Allah seized them for their sins. And they had not from Allah any protector


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 21 { اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے !“ { کَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ”وہ کہیں زیادہ بڑھ کر تھے ان سے قوت میں اور زمین میں آثار کے حوالے سے بھی ‘ ‘ انہوں نے زمین میں بڑی بڑی عمارتیں اور بہت سی دوسری ایسی یادگاریں بنائیں جو ان کے بعد بھی ان کی نشانیوں کے طور پر موجود رہی ہیں۔ اقوامِ ماضی کے ایسے بہت سے آثار آج بھی دنیا میں جا بجا موجود ہیں جنہیں ہم آثار قدیمہ کہتے ہیں۔ { فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ } ”تو اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔“ { وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ } ”اور پھر کوئی نہ ہوا انہیں اللہ سے بچانے والا۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 21 and 22.

دنیا کی تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات ہیں کہ ایک قوم ابھری اور پھر مٹ گئی۔ ایک قوم جس نے زمین پر شاندار تمدن کھڑا کیا، آج اس کا تمدن کھنڈر کی صورت میں زمین کے نیچے دبا ہوا پڑا ہے۔ ایک قوم جس کو کسی وقت ایک زندہ واقعہ کی حیثیت حاصل تھی، آج وہ صرف ایک تاریخی واقعہ کے طورپر قابل ذکر سمجھی جاتی ہے۔

اس قسم کے واقعات لوگوں کےلیے معلوم واقعات ہیں مگر لوگوں نے ان واقعات کو ارضی حوادث یا سیاسی انقلاب کے خانہ میں ڈال رکھا ہے۔لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ سب خدائی فیصلے تھے جو سچائی کے انکار کے نتیجے میںان قوموں پر نازل ہوئے۔ اگرہم کو وہ نگاہ حاصل ہو جس سے ہم معنوی حقیقتوں کو دیکھ سکیں تو ہم کو نظر آئے گا کہ ہر واقعہ خدا کے فرشتوں کے ذریعہ انجام پارہا تھا، اگر چہ بظاہر دیکھنے والوں کو وہ دنیوی اسباب کے تحت ہوتا ہوا دکھائی دیا۔


Connections

  • Previous: 40_20
  • Next: 40_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes