Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:93 Prev 4:91


Arabic

وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ أَن يَقۡتُلَ مُؤۡمِنًا إِلَّا خَطَـٔٗاۚ وَمَن قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَـٔٗا فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖ وَدِيَةٞ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦٓ إِلَّآ أَن يَصَّدَّقُواْۚ فَإِن كَانَ مِن قَوۡمٍ عَدُوّٖ لَّكُمۡ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖۖ وَإِن كَانَ مِن قَوۡمِۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٞ فَدِيَةٞ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ وَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ تَوۡبَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے چوک ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خونبہا دے، الا یہ کہ وہ خونبہا معاف کر دیں لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی غیرمسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا پھر جو غلام نہ پائے وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے یہ اِس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے اور اللہ علیم و دانا ہے


English (Sahih International)

And never is it for a believer to kill a believer except by mistake. And whoever kills a believer by mistake - then the freeing of a believing slave and a compensation payment presented to the deceased’s family [is required] unless they give [up their right as] charity. But if the deceased was from a people at war with you and he was a believer - then [only] the freeing of a believing slave; and if he was from a people with whom you have a treaty - then a compensation payment presented to his family and the freeing of a believing slave. And whoever does not find [one or cannot afford to buy one] - then [instead], a fast for two months consecutively, [seeking] acceptance of repentance from Allah. And Allah is ever Knowing and Wise


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

اب ایک اور معاشرتی مسئلہ آ رہا ہے۔ اس وقت در اصل پورے عرب کے اندر ایک بھٹی دہک رہی تھی ‘ جگہ جگہ جنگیں لڑی جا رہی تھیں ‘ میدان لگ رہے تھے ‘ معرکے ہو رہے تھے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں تو صرف بڑے بڑے معرکوں اور غزوات کا ذکر ہوا ہے مگر حقیقت میں اس وقت پورا معاشرہ حالت جنگ میں تھا۔ ایک چومکھی جنگ تھی جو مسلسل جاری تھی۔ ان آیات سے اس وقت کے عرب معاشرے کی اصل صورت حال اور اس قبائلی معاشرے کے مسائل کی بہت کچھ عکاسی ہوتی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں فرض کریں ‘ ایک شخص نے کسی دوسرے کو قتل کردیا۔ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں۔ قاتل کہتا ہے کہ میں نے عمداً ایسا نہیں کیا ‘ میں نے تو شکار کی غرض سے تیر چلایا تھا مگر اتفاق سے نشانہ چوک گیا اور اس کو جا لگا۔ تو اب یہ مسلمان کا مسلمان کو قتل کرنا دو طرح کا ہوسکتا ہے ‘ قتل عمد یا قتل خطا۔ یہاں اس بارے میں وضاحت فرمائی گئی ہے۔آیت 92 وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا الاَّ خَطَءًاج خطا کے طور پر قتل کیا ہے ؟ نشانہ چوک گیا اور کسی کو جا لگا یاسڑک پر حادثہ ہوگیا ‘ کوئی شخص گاڑی کے نیچے آکر مرگیا۔ آپ تو اسے مارنا نہیں چاہتے تھے ‘ بس یہ سب کچھ آپ سے اتفاقی طور پر ہوگیا۔ چناچہ سعودی عرب میں حادثات کے ذریعے ہونے و الی اموات کے فیصلے اسی قانون قتل خطا کے تحت ہوتے ہیں۔ وہ قانون کیا ہے :وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَءًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ اور جو شخص کسی مؤمن کو قتل کر دے غلطی سے تو اس کے ذمہ ہے ایک مسلمان غلام کی گردن کا آزاد کرانا وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ الآی اَہْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا ط“یعنی قتل خطا کے بدلے میں قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ دیت یعنی خون بہا ادا کیا جائے گا ‘ یہ مقتول کے ورثاء کا حق ہے۔ اور گناہ کے کفّارے کے طور پر ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہوگا ‘ یہ اللہ کا حق ہے۔ فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُم وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ط“کیونکہ کافر قبیلے کا آدمی تھا اور اگر اس کی دیت دی جائے گی تو وہ اس کے گھر والوں کو ملے گی جو کہ کافر ہیں ‘ لہٰذا یہاں دیت معاف ہوگئی ‘ لیکن ایک غلام کو آزاد کرنا جو اللہ کا حق تھا ‘ وہ برقرار رہے گا۔ وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ اور اگر وہ مقتول ہو کسی ایسی قوم سے جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ الآی اَہْلِہٖ وَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ج گویا یہ دو حق الگ الگ ہیں۔ ایک تو دیت ہے جو مقتول کے ورثاء کا حق ہے ‘ اس میں یہاں رعایت نہیں ہوسکتی ‘ البتہ جو حق اللہ کا اپنا ہے یعنی گناہ کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایک مؤمن غلام کا آزاد کرنا ‘ تو اس میں اللہ نے نرمی کردی ‘ جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 92 and 93.

ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اس کی جان کا احترام کرے۔ اگر ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کردے تو اس نے سب سے بڑا معاشرتی جرم کیا۔ ایک شخص جب دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر آخری ممکن وار کرتا ہے۔ نیز یہ وہ جرم ہے جس کے بعد مجرم کے لیے اپنے جرم کی تلافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ قتل عمد کی سزا خلود فی النار ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مارڈالے اس سے اللہ اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کو ملعون قرار دے کر اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ البتہ قتل خطا کا جرم ہلکا ہے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے مارڈالے، اس کے بعد اس کو غلطی کا احساس ہو وہ اللہ کے سامنے روئے گڑگڑائے اور مقررہ قاعدہ کے مطابق اس کی تلافی کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے گا۔ غلطی کے بعد مال خرچ کرنا یا مسلسل روزے رکھنا گویا خود اپنے ہاتھوں اپنے کو سزا دینا ہے۔جب آدمی کے اوپر شدت سے یہ احساس طاری ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہوگئی تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے اوپر اصلاحی عمل کرے۔ اللہ نے بتایا کہ ایسی حالت میں آدمی کو اپنی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

یہاں اصلاً قتل کا حکم بتایا گیاہے۔ تاہم اسی نوعیت کے دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہیں اور مذکورہ حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دوسری چیزوں کے بارے میں شریعت کا تقاضا کیا ہے۔

ایک مسلمان کا فرض جس طرح یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کو بے عزت نہ کرے۔ اس کا مال نہ چھینے۔ اس کو بے گھر نہ کرے۔ اس کے روزگار میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے سکون کو غارت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے۔ وہ چیزیں جو اس کے لیے زندگی کے اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کسی چیزکو اس سے چھیننے کی کوشش نہ کرے۔ ایک آدمی اگر غلطی سے ایسا کوئی فعل کربیٹھے جس سے اس کے مسلمان بھائی کو اس قسم کا کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے اور غلطی کے احساس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی کے نقصان کی تلافی کرے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آدمی قصداً ایسی کارروائی کرے جس کا سوچا سمجھا مقصد اپنے بھائی کو نقصان پہنچانا اور اس کو پریشان کرنا ہو تو درجہ کے فرق کے ساتھ یہ بھي اسی نوعیت کا جرم ہے جیسا قتل عمد۔


Connections

  • Previous: 4_91
  • Next: 4_93
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes