Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞فَمَا لَكُمۡ فِي ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِئَتَيۡنِ وَٱللَّهُ أَرۡكَسَهُم بِمَا كَسَبُوٓاْۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهۡدُواْ مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دو رائیں پائی جاتی ہیں، حالانکہ جو برائیاں اُنہوں نے کمائی ہیں اُن کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہیں بخشی اُسے تم ہدایت بخش دو؟ حالانکہ جس کو اللہ نے راستہ سے ہٹا دیا اُس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے
English (Sahih International)
What is [the matter] with you [that you are] two groups concerning the hypocrites, while Allah has made them fall back [into error and disbelief] for what they earned. Do you wish to guide those whom Allah has sent astray? And he whom Allah sends astray - never will you find for him a way [of guidance]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 88 فَمَا لَکُمْ فِی الْْمُنٰفِقِیْنَ فِءَتَیْنِ وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط بات آگے واضح ہوجائے گی کہ یہ کن منافقین کا تذکرہ ہے ‘ جن کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان دو رائیں پائی جاتی تھیں۔ اہل ایمان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ نرمی ہونی چاہیے ‘ آخر یہ ایمان تو لائے تھے نا ‘ اب نہیں ہجرت کرسکے۔ جبکہ کچھ لوگ اللہ کے حکم کے معاملے میں ان سے سخت رویہ اختیار کرنے کے حق میں تھے۔ چناچہ ارشاد ہوا کہ اے مسلمانو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کے بارے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہو ؟وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط۔ان کا ہجرت نہ کرنا درحقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الٹے پھیر دیے گئے ہیں۔ یعنی ان کا ایمان سلب ہوچکا ہے۔ ہاں کوئی مجبوری ہوتی ‘ عذر ہوتا تو بات تھی۔ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَہْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط جن کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے۔وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلاً جس کی گمراہی پر اللہ کی طرف سے آخری مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہو اس کے لیے پھر کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 88 to 91.
آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔