Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَّن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةً حَسَنَةٗ يَكُن لَّهُۥ نَصِيبٞ مِّنۡهَاۖ وَمَن يَشۡفَعۡ شَفَٰعَةٗ سَيِّئَةٗ يَكُن لَّهُۥ كِفۡلٞ مِّنۡهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ مُّقِيتٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا، اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے
English (Sahih International)
Whoever intercedes for a good cause will have a reward therefrom; and whoever intercedes for an evil cause will have a burden therefrom. And ever is Allah, over all things, a Keeper
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
منافقین سے خطاب کے بعد اب پھر کچھ تمدنی آداب کا ذکر ہو رہا ہے۔ منافقین سے خطاب میں دو باتوں کو نمایاں کیا گیا۔ ایک اطاعت رسول ﷺ جو ان پر بہت شاق گزرتی تھی اور ایک قتال فی سبیل اللہ جو ان کے لیے بہت بڑا امتحان بن جاتا تھا۔ اب پھر اہل ایمان سے خطاب آ رہا ہے۔آیت 85 مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنْ لَّہٗ نَصِیْبٌ مِّنْہَا ج۔انسانی معاشرے کے اندر کسی کے لیے سفارش کرنا بھی بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص ہے ‘ اس کی کوئی احتیاج ہے ‘ آپ جانتے ہیں کہ صحیح آدمی ہے ‘ بہروپیا نہیں ہے۔ دوسرے شخص کو آپ جانتے ہیں کہ وہ اس کی مدد کرسکتا ہے تو آپ کو دوسرے شخص کے پاس جا کر اس کے حق میں سفارش کرنی چاہیے کہ میں اس کو جانتا ہوں ‘ یہ واقعتا ضرورت مند ہے۔ اس طرح اس کی ضرورت پوری ہوجائے گی اور اس نیکی کے ثواب میں آپ بھی حصہ دار ہوں گے۔ اسی طرح کسی پر کوئی مقدمہ قائم ہوگیا ہے اور آپ کے علم میں اس کی بےگناہی کے بارے میں حقائق اور شواہد ہیں تو آپ کو عدالت میں پیش ہو کر یہ حقائق اور شواہد پیش کرنے چاہئیں ‘ تاکہ اس کی گلوخلاصی ہو سکے۔ اس آیت کی رو سے نیکی ‘ بھلائی ‘ خیر اور عدل و انصاف کی خاطر اگر کسی کی سفارش کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا اجرو ثواب عطا فرمائے گا۔وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَّکُنْ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا ط۔کسی نے کسی کی جھوٹی اور غلط سفارش کی ‘ حقائق کو توڑا مروڑا تو وہ بھی اس کے جرم میں شریک ہوگیا اور وہ اس جرم کی سزا میں بھی حصہ دار ہوگا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 4:84.