Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں
English (Sahih International)
But no, by your Lord, they will not [truly] believe until they make you, [O Muhammad], judge concerning that over which they dispute among themselves and then find within themselves no discomfort from what you have judged and submit in [full, willing] submission
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 65 فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ اس میں انہیں کوئی اختیار choice حاصل نہیں ہے۔ ان کے مابین جو بھی نزاعات اور اختلافات ہوں ان میں اگر یہ آپ کو حکم نہیں مانتے تو آپ کے رب کی قسم یہ مؤمن نہیں ہیں۔ کلام الٰہی کا دوٹوک اور پر جلال انداز ملاحظہ کیجیے۔ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ اگر آپ ﷺ ‘ کا فیصلہ قبول بھی کرلیا ‘ لیکن دل کی تنگی اور کدورت کے ساتھ کیا تب بھی یہ مؤمن نہیں ہیں۔وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا واضح رہے کہ یہ حکم صرف رسول اللہ ﷺ کی زندگی تک محدود نہیں تھا ‘ بلکہ یہ قیامت تک کے لیے ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 4:64.