Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:52 Prev 4:50


Arabic

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡجِبۡتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ هَـٰٓؤُلَآءِ أَهۡدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ سَبِيلًا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں


English (Sahih International)

Have you not seen those who were given a portion of the Scripture, who believe in superstition and false objects of worship and say about the disbelievers, “These are better guided than the believers as to the way


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 51 and 52.

آیت 51 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً یہود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی رض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے ‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہل ایمان کے ساتھ ضدمّ ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکین مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ یہ مشرک مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اور ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 51 to 57.

آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔

لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔


Connections

  • Previous: 4_50
  • Next: 4_52
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes