Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:6 Prev 4:4


Arabic

وَلَا تُؤۡتُواْ ٱلسُّفَهَآءَ أَمۡوَٰلَكُمُ ٱلَّتِي جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمۡ قِيَٰمٗا وَٱرۡزُقُوهُمۡ فِيهَا وَٱكۡسُوهُمۡ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو


English (Sahih International)

And do not give the weak-minded your property, which Allah has made a means of sustenance for you, but provide for them with it and clothe them and speak to them words of appropriate kindness


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 5 وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو نادانوں اور ناسمجھ لوگوں سُفَہاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں بچے بھی شامل ہیں جو ابھی سن شعور کو نہیں پہنچے۔ ایسے بچے اگر یتیم ہوجائیں تو وہ وراثت میں ملنے والے مال کو اللوں تللوں میں اڑا سکتے ہیں۔ لہٰذا یہاں ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے مال کے بےجا استعمال کی معاشرتی سطح پر روک تھام ہونی چاہیے۔ یہ تصور ناقابل قبول ہے کہ میرا مال ہے ‘ میں جیسے چاہوں خرچ کروں ! چناچہ اس مال کو اَمْوَالَکُمْ“ کہا گیا کہ یہ اصل میں معاشرے کی مشترک بہبود کے لیے ہے۔ اگرچہ انفرادی ملکیت ہے ‘ لیکن پھر بھی اسے معاشرے کی مشترک بہبود میں خرچ ہونا چاہیے۔ ِ وَّارْزُقُوْہُمْ فِیْہَا وَاکْسُوْہُمْ وَقُوْلُوْا لَہُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا اسی اصول کے تحت برطانوی دور کے ہندوستان میں of wards Court مقرر کردیے جاتے تھے۔ اگر کوئی بڑا جاگیردار یا نواب فوت ہوجاتا اور یہ اندیشہ محسوس ہوتا کہ اس کا بیٹا آوارہ ہے اور وہ سب کچھ اڑا دے گا ‘ ختم کر دے گا تو حکومت اس میراث کو اپنی حفاظت میں لے لیتی اور ورثاء کے لیے اس میں سے سالانہ وظیفہ مقرر کردیتی۔ باقی سب مال و اسباب جمع رہتا تھا تاکہ یہ ان کی آئندہ نسل کے کام آسکے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 5 to 10.

مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔

دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔


Connections

  • Previous: 4_4
  • Next: 4_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes