Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:41 Prev 4:39


Arabic

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةٗ يُضَٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِيمٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اُسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے


English (Sahih International)

Indeed, Allah does not do injustice, [even] as much as an atom’s weight; while if there is a good deed, He multiplies it and gives from Himself a great reward


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 40 اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ج وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا اس سورة مبارکہ کی اگلی آیت بڑی اہم ہے۔ یہ اس شہادت علی الناس سے متعلق ہے جو مضمون سورة البقرۃ آیت 143 میں آیا تھا کہ اے مسلمانو ! تمہیں اب شہداء علی الناس بنایا گیا ہے ‘ جیسے کہ نبی ﷺ نے تم پر شہادت دی ہے۔ نبی مکرم ﷺ قیامت کے دن کھڑے ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ میرے پاس جو دین آیا تھا میں نے انہیں پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ اپنے طرز عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔ یہی بات قیامت کے دن کھڑے ہو کر تمہیں کہنی ہے کہ اے اللہ ہم نے اپنے زمانے کے لوگوں تک تیرا دین پہنچا دیا تھا ‘ اب اس کے بعد اپنے طرز عمل کے یہ خود جواب دہ ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ الٹا وہ ہمارے اوپر مقدمہ کریں کہ اے اللہ ان بدبختوں نے ہمیں تیرا دین نہیں پہنچایا ‘ یہ خزانے کے سانپ بن کر بیٹھے رہے۔ یہ تو شہادت کا ایک رخ ہے ‘ لیکن جس کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہو ‘ واقعہ یہ ہے کہ اس کے لیے تو یہ ایک بہت بھاری بوجھ ہے۔ یہاں اس کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہوگا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 4:36.


Connections

  • Previous: 4_39
  • Next: 4_41
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes