Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:24 Prev 4:22


Arabic

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّـٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّـٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَـٰٓئِبُكُمُ ٱلَّـٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّـٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُواْ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَـٰٓئِلُ أَبۡنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنۡ أَصۡلَٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شو ہو چکا ہو ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور) تعلق زن و شو نہ ہوا ہو تو (ا نہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے


English (Sahih International)

Prohibited to you [for marriage] are your mothers, your daughters, your sisters, your father’s sisters, your mother’s sisters, your brother’s daughters, your sister’s daughters, your [milk] mothers who nursed you, your sisters through nursing, your wives’ mothers, and your step-daughters under your guardianship [born] of your wives unto whom you have gone in. But if you have not gone in unto them, there is no sin upon you. And [also prohibited are] the wives of your sons who are from your [own] loins, and that you take [in marriage] two sisters simultaneously, except for what has already occurred. Indeed, Allah is ever Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

وَاُمَّہٰتُ نِسَآءِکُمْ جن کو ہم ساس یا خوش دامن کہتے ہیں۔وَرَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ز ربیبہبیوی کی اس لڑکی کو کہا جاتا ہے جو اس کے سابق شوہر سے ہو۔ اگر موجودہ شوہر اس بیوی سے تعلق زن و شو قائم ہونے کے بعد اس کو طلاق دے دے تو ربیبہ کو اپنے نکاح میں نہیں لاسکتا ‘ یہ اس کے لیے حرام ہے۔ لیکن اگر اس بیوی کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں ہوا اور اسے طلاق دے دی تو پھر ربیبہ کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔ چناچہ فرمایا کہ اگر تم نے ان بیویوں کے ساتھ مقاربت نہ کی ہو تو پھر انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ ِ وَحَلَآءِلُ اَ بْنَآءِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَبِکُمْ لا جن کو ہم بہوئیں کہتے ہیں۔ اپنے صلبی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے۔ البتہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح میں کوئی حرج نہیں۔ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا۔ اب گڑے مردے تو اکھاڑے نہیں جاسکتے۔ لیکن آئندہ کے لیے یہ محرمات ابدیہ ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ نے اضافہ کیا ہے کہ جس طرح دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں نہیں رکھ سکتے اسی طرح خالہ بھانجی کو اور پھوپھی بھتیجی کو بھی بیک وقت نکاح میں نہیں رکھ سکتے۔ یہ محرمات ابدیہ ہیں کہ جن کے ساتھ کسی حال میں ‘ کسی وقت شادی نہیں ہوسکتی۔ اب وہ محرمات بیان ہو رہی ہیں جو عارضی ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 23 to 25.

انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لیے بھی حدود اور ضابطے مقرر کيے ہیں۔ شریعت الٰہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے۔ اس مقصد کے لیے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیاگیا تاکہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق، شہوانی جذبات سے اوپر رہے۔

انسان کی عزت وبڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیز يں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت وبڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم ميں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔


Connections

  • Previous: 4_22
  • Next: 4_24
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes