Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:18 Prev 4:16


Arabic

إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٖ فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق اُنہی لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہو جاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے


English (Sahih International)

The repentance accepted by Allah is only for those who do wrong in ignorance [or carelessness] and then repent soon after. It is those to whom Allah will turn in forgiveness, and Allah is ever Knowing and Wise


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 17 اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ ایک صاحب ایمان پر کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ خارجی اثرات اتنے شدید ہوجائیں یا نفس کے اندر کا ہیجان اسے جذبات سے مغلوب کر دے اور وہ کوئی گناہ کا کام کر گزرے۔ لیکن اس کے بعد اسے جیسے ہی ہوش آئے گا اس پر شدید ندامت طاری ہوجائے گی اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمے ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 17 and 18.

کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ قانون کے مطابق کیا جائے گا، نہ کہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کیے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں، کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے، اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرلے تو اس كے بعد تو لازم هوجاتا هے كه اس كے ساتھ شفقت اور درگزر كا معامله كيا جائے۔ كسي كے ماضي كي بنياد پر اس كو مطعون كرنا درست نهيں۔ جب الله توبه كرنے والوں كي توبه قبول كرتاهے اور اپني اصلاح كرلینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کررہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔

توبہ زبان سے ’’توبہ‘‘ کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی توبہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لیے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ توبہ آدمی کے لیے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کردیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے توبہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہو ں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے رہيں۔ اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کهيں کہ ’’میں نے توبہ کی،‘‘ اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریںگے۔

توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے۔ توبہ اس شخص کے لیے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کربیٹھے، پھر اس کا احتسابِ نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرادے۔ وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے۔ ایسا ہی آدمی توبہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح توبہ کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔


Connections

  • Previous: 4_16
  • Next: 4_18
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes