Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلَّـٰتِي يَأۡتِينَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمۡ فَٱسۡتَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِنَّ أَرۡبَعَةٗ مِّنكُمۡۖ فَإِن شَهِدُواْ فَأَمۡسِكُوهُنَّ فِي ٱلۡبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّىٰهُنَّ ٱلۡمَوۡتُ أَوۡ يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تمہاری عورتوں میں سے جو بد کاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے
English (Sahih International)
Those who commit unlawful sexual intercourse of your women - bring against them four [witnesses] from among you. And if they testify, confine the guilty women to houses until death takes them or Allah ordains for them [another] way
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب اسلامی معاشرے کی تطہیر کے لیے احکام دیے جا رہے ہیں۔ مسلمان جب تک مکہ میں تھے تو وہاں کفار کا غلبہ تھا۔ اب مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ حیثیت دی ہے کہ اپنے معاملات کو سنوارنا شروع کریں۔ چناچہ ایک ایک کر کے ان معاشرتی معاملات اور سماجی مسائل کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ اسلامی معاشرے میں عفت و عصمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر معاشرے میں جنسی بےراہ روی موجود ہے تو اس کی روک تھام کیسے ہو ؟ اس کے لیے ابتدائی احکام یہاں آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں تکمیلی احکام سورة النور میں آئیں گے۔ معاشرتی معاملات کے ضمن میں احکام پہلے سورة النساء ‘ پھر سورة الاحزاب ‘ پھر سورة النور اور پھر سورة المائدۃ میں بتدریج آئے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ سورة الاحزاب اور سورة النور کو مصحف میں کافی آگے رکھا گیا ہے اور یہاں پر سورة النساء کے بعد سورة المائدۃ آگئی ہے۔آیت 15 وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ ج فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰٹہُنَّ الْمَوْتُ اسی حالت میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔اَوْیَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً بدکاری کے متعلق یہ ابتدائی حکم تھا۔ بعد میں سورة النور میں حکم آگیا کہ بدکاری کرنے والے مرد و عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایسی لڑکیوں یا عورتوں کا تذکرہ ہے جو مسلمانوں میں سے تھیں مگر ان کا بدکاری کا معاملہ کسی غیر مسلم مرد سے ہوگیا جو اسلامی معاشرے کے دباؤ میں نہیں ہے۔ ایسی عورتوں کے متعلق یہ ہدایت فرمائی گئی کہ انہیں تاحکم ثانی گھروں کے اندر محبوس رکھا جائے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 15 and 16.
قرآن كے يه مخاطبين جس معامله ميں شك ميں پڑےهوئے تھے وه خدا كے وجود كا معامله نه تھا۔ بلكه خدا كي توحيد كامعامله تھا۔ وه روايتي طورپر خدا كو مانتے هوئے عملاً اپنے اكابر كے دين پر قائم تھے۔
قرآن نے ان اكابر كو بے بنياد ثابت كيا۔ مگر وه اس كو ماننے كے ليے تيار نه هوئے۔ ايك طرف وه اپنے آپ كوبے دليل پارهے تھے۔ دوسري طرف اپنے اكابر كي عظمت كو اپنے ذهن سے نكالنا بھي انھيں ناممكن نظر آتا تھا۔ اس دو طرفه تقاضوں نے انھيں شك ميں مبتلا كر ديا۔ خدا كا داعي انھيں اس سے كم نظر آيا كه اس كے كهنے سے وه اپنے مفروضه اكابر كو چھوڑ ديں۔
جو لوگ نصيحت كے ذريعے حق كو نه مانيں وه اپنے آپ كو اس خطرے ميں ڈال رهے هيں كه ان كو عذاب كے ذريعه اسے ماننا پڑے۔ اس وقت وه اعتراف كريں گے۔ مگر اس وقت كا اعتراف كرنا ان كے كچھ كام نه آئے گا۔