Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞لَّا خَيۡرَ فِي كَثِيرٖ مِّن نَّجۡوَىٰهُمۡ إِلَّا مَنۡ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوۡ مَعۡرُوفٍ أَوۡ إِصۡلَٰحِۭ بَيۡنَ ٱلنَّاسِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوۡفَ نُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اُسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے
English (Sahih International)
No good is there in much of their private conversation, except for those who enjoin charity or that which is right or conciliation between people. And whoever does that seeking means to the approval of Allah - then We are going to give him a great reward
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 114 لاَ خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰٹہُمْ منافقین کی منفی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ علیحدہ بیٹھ کر سرگوشیاں کرنا ‘ دوسروں کو دیکھ کر مسکرانا اور ساتھ اشارے بھی کرنا تاکہ دیکھنے والے کے دل میں خلجان پیدا ہو کہ میرے بارے میں بات ہو رہی ہے ‘ آج بھی ہماری مجلسوں میں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ یہ سارے معاملات جوں کے توں انسانی معاشرے کے اندر ویسے ہی آج بھی موجود ہیں۔ مگر اللہ کا فرمان ہے کہ اس انداز کی خفیہ سرگوشیوں کا زیادہ حصہ ایسا ہوتا ہے جس میں کوئی خیر نہیں ہوتی۔اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلاَحٍم بَیْنَ النَّاسِ ط۔خیر والی سرگوشی یہ ہوسکتی ہے کہ خاموشی سے کسی کو علیحدگی میں لے جا کر اس کو صدقہ و خیرات کی تلقین کی جائے کہ بھائی دیکھو آپ کو اللہ نے غنی کیا ہے ‘ فلاں شخص محتاج ہے ‘ میں اس کو جانتا ہوں ‘ آپ کو اس کی مدد کرنی چاہیے ‘ وغیرہ۔ پھر معروف اور بھلائی کے امور میں خفیہ صلاح مشورے اگر کیے جائیں تو اس میں بھی حرج نہیں۔ اسی طرح کسی غلط فہمی یا جھگڑے کی صورت میں فریقین میں صلح صفائی کرانے کی غرض سے بھی خفیہ مذاکرات کسی سازش کے زمرے میں نہیں آتے۔ مثلاً دو بھائی جھگڑ پڑے ہیں ‘ اب آپ ایک کی بات علیحدگی میں سنیں اور دوسرے کے پاس جا کر اس بات کو بہتر انداز میں پیش کریں کہ آپ کو مغالطہ ہوا ہے ‘ انہوں نے یہ بات یوں نہیں ‘ یوں کہی تھی۔ اس طرح کی علیحدہ علیحدہ گفتگو جو نیک نیتی سے کی جا رہی ہو ‘ یہ یقینا نیکی اور بھلائی کی بات ہے ‘ جو باعث اجر وثواب ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 114 and 115.
حق کی بے آمیز دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ زمین پر خدا کا ترازو کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی میزان میںہر آدمی اپنے کو تُلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ حق کی دعوت ہر ایک کے اوپر سے اس کا ظاہری پردہ اتاردیتی ہے اور ہر شخص کو اس کے اس مقام پر کھڑا کردیتی ہے جہاں وہ باعتبار حقیقت تھا۔ یہ صورت حال اتنی سخت ہوتی ہے کہ لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ سارا ماحول داعی کے لیے ایسا بن جاتا ہے جیسے وہ انگاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہو۔
جو لوگ دعوت حق کے ترازومیں اپنے کو بے وزن ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں ان کے اندر ضد اور گھمنڈ کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ تیزی سے مخالفانہ رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ایسی دعوت کو مٹا دیں جو ان کی حق پرستانہ حیثیت کو مشتبہ ثابت کرتی ہو۔ ان کے لیے اپنی زبان کا استعمال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعوت اور داعی کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلائیں۔ اس کو زیر کرنے کے منصوبے بنائیں۔ وہ لوگوں کو منع کریں کہ اس کی مالي مدد نہ کرو۔ جو اللہ کے بندے اللہ کی رسّی کے گرد متحد ہورہے ہوں ان کو بدگمانیوں میں مبتلا کرکے منتشر کریں۔
اس کے برعکس، جو لوگ اپنی فطرت کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو اللہ کی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائیں، وہ اس کا ساتھ دیں، وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی زبان کا استعمال یہ ہوتا ہے کہ وہ کھلے طور پر سچائی کا اعتراف کرلیں۔ وہ لوگوں سے کہیں کہ یہ اللہ کا کام ہے اس میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرو۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنی قوتوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں لگائیں۔ وہ آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ حق کا اعتراف ان کے اندر جو نفسیات جگاتا ہے اس کا قدرتی نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے تعميري کاموں میں لگ جائیں۔
اللہ کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے کہ حق کی دعوت کی مخالفت کی جائے اور جو لوگ حق کی دعوت کے گرد جمع ہوئے ہیں ان کو اپنی دشمنی کی آگ میں جلانے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے اکثر گناہوں میں یہ امکان رہتا ہے کہ وہ انسان کی غفلت یا کمزوری کی وجہ سے صادر ہوئے ہوں۔ مگر دعوت حق کی مخالفت تمام تر سرکشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور سرکشی کسی آدمی کا وہ جرم ہے جس کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا، اِلاّ یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار کرے اور سرکشی سے باز آجائے۔ دین کی دعوت جب بھی اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ ایک خدائی کام ہوتا ہے جو خدا کی خصوصی مدد پر شروع ہوتا ہے۔ ایسے کام کی مخالفت کرنا گویا خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہونا ہے اور کون ہے جو خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کامیاب ہو۔