Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:110 Prev 4:108


Arabic

هَـٰٓأَنتُمۡ هَـٰٓؤُلَآءِ جَٰدَلۡتُمۡ عَنۡهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فَمَن يُجَٰدِلُ ٱللَّهَ عَنۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ أَم مَّن يَكُونُ عَلَيۡهِمۡ وَكِيلٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہاں! تم لوگوں نے اِن مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کر لیا، مگر قیامت کے روز ان کی طرف سے کون جھگڑا کرے گا؟آخر وہاں کون اِن کا وکیل ہوگا؟


English (Sahih International)

Here you are - those who argue on their behalf in [this] worldly life - but who will argue with Allah for them on the Day of Resurrection, or who will [then] be their representative


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 109 ہٰٓاَنْتُمْ ہٰٓؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاقف فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَمْ مَّنْ یَّکُوْنُ عَلَیْہِمْ وَکِیْلاً یہ خطاب ہے اس منافق چور کے قبیلے کے لوگوں سے کہ اے لوگو ! تم نے دنیا کی زندگی میں تو مجرموں کی طرف سے خوب وکالت کرلی ‘ یہاں تک کہ حضور ﷺ کو بھی قائل کرنے کی حد تک تم پہنچ گئے۔ مگر یہاں تم انہیں چھڑا بھی لیتے اور بالفرض حضور ﷺ کو بھی قائل کرلیتے تو قیامت کے دن انہیں اللہ کی پکڑ سے کون چھڑاتا ؟ اس ضمن میں حضور ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم اس طرح ہے کہ میرے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہوتا ہے ‘ اس میں ایک فریق زیادہ چرب زبان ہوتا ہے ‘ وہ اپنی بات بہتر طور پر پیش کرتا ہے اور میرے ہاں سے اپنے حق میں غلط طور پر فیصلہ لے جاتا ہے۔ فرض کیجئے کسی زمین کے ٹکڑے کے بارے میں کوئی تنازعہ تھا اور ایک شخص غلط طور پر بات ثابت کر کے اپنے حق میں فیصلہ لے گیا۔ لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح وہ زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ جہنم کا ٹکڑا لے کر گیا ہے۔ یعنی خود رسول اللہ ﷺ جو بھی فیصلے کرتے تھے شہادتوں کے اعتبار سے کرتے تھے ‘ حضور ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے ہر وقت اور ہر مرحلے پر تو وحی نازل نہیں ہوتی تھی ‘ جہاں اللہ تعالیٰ چاہتا آپ ﷺ کو متنبہ فرما دیتا تھا۔ اس لیے آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے تنبیہہ فرما دی کہ اگر کچھ لوگ اس دنیا میں جھوٹ ‘ فریب اور غلط فیصلے کے ذریعے کوئی مفاد حاصل کر بھی لیتے ہیں تو انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ایک دن اس کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے جہاں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہیں چلے گا ‘ وہاں ان کے حق میں اللہ سے کون جھگڑے گا ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 109 to 113.

دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطي ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملہ میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے۔ وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کردے اور آئندہ کے لیے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کرکے اس کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تو وہ غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کررہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔

ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانا بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہیں، وہ تدبیر کرکے اس کام کو بند کرادے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سر ڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو، نہ کہ بحث کرکے اپنے کو صحیح ثابت کرو۔کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔


Connections

  • Previous: 4_108
  • Next: 4_110
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes