Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 4:106 Prev 4:104


Arabic

إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِتَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِمَآ أَرَىٰكَ ٱللَّهُۚ وَلَا تَكُن لِّلۡخَآئِنِينَ خَصِيمٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تم بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو


English (Sahih International)

Indeed, We have revealed to you, [O Muhammad], the Book in truth so you may judge between the people by that which Allah has shown you. And do not be for the deceitful an advocate


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 105 اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰٹک اللّٰہُ ط یعنی ایک تو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو کتاب دی ہے ‘ قانون دیا ہے ‘ اس کے ساتھ آپ ﷺ کو بصیرت خاص دی ہے۔ مثلاً عدالت میں ایک جج بیٹھا ہے ‘ اس کے سامنے قانون کی کتاب ہے ‘ مقدمے سے متعلق متعلقہ ریکارڈ ہے ‘ شہادتیں ہیں ‘ اب ایک اس کی اپنی عقل چھٹی حِس اور قوت فیصلہ بھی ہوتی ہے ‘ جس کو بروئے کار لا کر وہ فیصلہ کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جیسا ہم آپ ﷺ کو دکھاتے ہیں اس کے مطابق آپ ﷺ فیصلہ کریں۔وَلاَ تَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْمًا یعنی آپ ﷺ ان کی طرف سے وکالت نہ فرمائیں۔ ایک شخص جو کہنے کو تو مسلمان ہے لیکن ہے خائن ‘ آپ ﷺ کو اس کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے پس منظر میں در اصل ایک واقعہ ہے۔ ایک منافق نے کسی مسلمان کے گھر میں چوری کے لیے نقب لگائی اور وہاں سے آٹے کا ایک تھیلا اور کچھ اسلحہ چرا لیا۔ آٹے کے تھیلے میں سوراخ تھا ‘ جب وہاں سے وہ اپنے گھر کی طرف چلا تو سوراخ میں سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا۔ اس طرح اس کے راستے اور گھر کی نشاندہی ہوتی گئی ‘ مگر اسے خبر نہیں تھی کہ آٹے کی لکیر اس کا راز فاش کر رہی ہے۔ گھر پہنچ کر اسے خیال آیا کہ ممکن ہے مجھ پر شک ہوجائے ‘ چناچہ اس نے اسی وقت جا کر وہ سامان ایک یہودی کے ہاں امانتاً رکھوا دیا ‘ لیکن آٹے کا نشان وہاں بھی پہنچ گیا۔ اگلے روز جب تلاش شروع ہوئی تو آٹے کی لکیر کے ذریعے لوگ کھوج لگاتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچ گئے ‘ لیکن پوچھ گچھ پر اس نے صاف انکار کردیا۔ تلاشی لی گئی ‘ مگر کوئی چیز برآمد نہ ہوئی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آٹے کے نشانات مزید آگے جا رہے ہیں تو وہ کھوج لگاتے ہوئے یہودی کے گھر پہنچے ‘ اس کے ہاں سے سامان بھی بر آمد ہوگیا۔ یہودی نے حقیقت بیان کردی کہ یہ سامان رات کو فلاں شخص نے اس کے پاس امانتاً رکھوایا تھا۔ منافق کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ یہودی جھوٹ بولتا ہے ‘ وہی چور ہے۔ جب کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تو یہ جھگڑا حضور ﷺ کے سامنے لایا گیا۔ منافق کے قبیلے والوں نے قسمیں کھا کھا کر خوب وکالت کی کہ ہمارا یہ آدمی تو بہت نیک ہے ‘ اس پر خواہ مخواہ کا جھوٹا الزام لگ رہا ہے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کا دل بھی اس شخص کے بارے میں کچھ پسیجنے لگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ خیانت کرنے والے کے حمایتی نہ بنیں ‘ اس کی طرف سے وکالت نہ کریں ‘ اس کا سہارا نہ بنیں ‘ اس کو مدد نہ پہنچائیں۔ یہاں خَصِیْمًا کے معنی ہیں جھگڑا کرنے والا ‘ بحث کرنے والا۔ لِلخَاءِنِیْنَ کا مطلب ہے خائن لوگوں کے حق میں۔ لیکن اگر عَلَی الخَاءِنِین ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا خائن لوگوں کے خلاف۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 105 to 108.

انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ اجتماعیت سے وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کرلیتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ایساہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طورپر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ وہ بذات خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتاہے کہ ’’میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیراہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیاجاتا۔

کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گروہی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ہاتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپناہو اور ایک فريق باہر کا، تب بھی معاملہ کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پر واہ کیے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیاجائے۔

سچائی کو چھوڑنا، خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کرچکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندهٔ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں كسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیوی تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لیے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے بھي اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مگرناحق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ساتھ سے محروم ہوجاتا ہے۔


Connections

  • Previous: 4_104
  • Next: 4_106
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes