Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦ وَٱلۡأَرۡضُ جَمِيعٗا قَبۡضَتُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ مَطۡوِيَّـٰتُۢ بِيَمِينِهِۦۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (اس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اُس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
English (Sahih International)
They have not appraised Allah with true appraisal, while the earth entirely will be [within] His grip on the Day of Resurrection, and the heavens will be folded in His right hand. Exalted is He and high above what they associate with Him
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 67 { وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ } ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا“ یہ لوگ اللہ کی قدرت ‘ اس کی قوت اور اس کی صفات کا اندازہ نہیں کر پائے۔ اس معاملے میں یہ بہت اہم نکتہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اگرچہ ہم انسان اللہ تعالیٰ کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات کو ناپ تول نہیں سکتے ‘ اگر ہم اس کی کوشش بھی کریں گے تو یوں سمجھیں کہ اس کوشش کی مثال سنار کی ترازو میں ٹنوں کے وزن کو تولنے جیسی ہوگی ‘ لیکن ہم یہ تو جان سکتے ہیں کہ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی ہے۔ اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جن کے اذہان اللہ کو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْـرٌ ماننے سے بھی عاجز ہیں۔ اب اللہ کی قدرت اور عظمت کی ایک جھلک ملاحظہ ہو : { وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌم بِیَمِیْنِہٖ } ”اور زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔“ کیا اس کیفیت کا اندازہ کرنا انسانی فکر اور سوچ کے بس کی بات ہے ؟ آسمانوں کی پہنائیاں ! کائنات میں موجود کہکشائوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی تعداد ! ایک ایک کہکشاں کی وسعت ! ایک ایک ستارے کی جسامت ! ان کہکشائوں اور ستاروں کے باہمی فاصلے ! ان فاصلوں اور وسعتوں کو ناپنے کے لیے انسان کے فرض کیے ہوئے نوری سالوں کے پیمانے ! ایک نوری سال کے فاصلے کا تصور ! اور پھر اربوں کھربوں نوری سالوں کی وسعتوں کا تخیل ! اور پھر یہ تصور کہ یہ سب کچھ لپٹا ہواہو گا اللہ کے داہنے ہاتھ میں ! ! بہر حال یہ ایسا موضوع ہے جس پر سوچتے ہوئے انسانی فکر اور اس کی قوت متخیلہ بھی تھک ہار کر رہ جاتی ہے۔ اور انسان کی عقل جو اللہ کی تخلیق کی ہوئی کائنات کے کسی ایک کونے کا احاطہ کرنے سے بھی عاجز ہے ‘ وہ اللہ کی قدرت کا کیا اندازہ کرے گی ! { سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ”وہ پاک ہے اور بہت بلند وبالا اس تمام شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 67 to 70.
اکثر گمراہیوں کی جڑ خدا کا کمتر اندازہ ہے۔آدمی دوسری عظمتوں میں اس ليے گم ہوتاہے کہ اس کو خدا کی اتھاہ عظمت کا پتہ نہیں۔ وہ اپنے اکابر سے وابستگی کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے تو اسی ليے سمجھتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ خدا اس سے زیادہ بڑا ہے کہ وہاں کوئی شخص اپنی زبان کھولنے کی جرأت کرسکے۔ قیامت جب لوگوں کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو ان کو معلوم ہوگا کہ خدا تو اتنا عظیم تھا جیسے کہ زمین ایک چھوٹے سکہ کی طرح اس کی مٹھی میں ہو اور آسمان ایک معمولی کاغذ کی طرح اس کے ہاتھ میں لپٹا ہوا ہو۔
جس طرح امتحان ہال میں امتحان کے ختم ہونے پر اَلارم بجتاہے اسی طرح موجودہ دنیا کی مدت ختم ہونے پر صور پھونکا جائے گا۔اس کے بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ اس کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ ہماری موجودہ دنیا سورج کی روشنی سے روشن ہوتی ہے۔ جو صرف محسوس مادی اشیاء کو ہمیں دکھا پاتی ہے۔ آخرت کی دنیا براہِ راست خدا کے نور سے روشن ہوگی۔ اس ليے وہاں یہ ممکن ہوگا کہ معنوی حقیقتوں کو بھی کھلی آنکھ سے دیکھا جاسکے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کی عدالت میں حاضر کيے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں نے پیغمبروں کو اور ان کی تبعيت میںاٹھنے والے داعیوں کو نظر انداز کیا تھا۔ مگر آخرت میں لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیںگے کہ لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ وہاں اسی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ کس نے ان کا ساتھ دیا اور کس نے ان کا انکار کردیا۔