Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱتَّبِعُوٓاْ أَحۡسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ بَغۡتَةٗ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو خبر بھی نہ ہو
English (Sahih International)
And follow the best of what was revealed to you from your Lord before the punishment comes upon you suddenly while you do not perceive
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 55 { وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ } ”اور پیروی کرو اس کے بہترین پہلو کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے“ یہ مضمون اس سے پہلے آیت 18 میں بھی آچکا ہے ‘ وہاں پر { فَـیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗط } کے الفاظ آئے ہیں۔ گویا قرآن جو راستہ تم لوگوں کو دکھا رہا ہے اس میں بھی مختلف درجات ہیں۔ ان درجات کا ذکر سورة التوبہ کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ } آیت 100 ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“۔ سورة النساء کی آیت 69 میں بھی چار مدارج کا ذکر ہے۔ ان میں پہلا درجہ انبیاء کرام علیہ السلام کا ہے ‘ دوسرے درجے پر صدیقین ہیں ‘ تیسرے درجے پر شہداء اور چوتھے پر صالحین۔ سورة الحدید میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے اتباع میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کو پانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ { مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ } ”اس سے پہلے کہ تم پر عذاب اچانک آدھمکے اور تمہیں اس کا گمان تک نہ ہو۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 55 to 61.
خدا کے کلام میں بہتر اور غیر بہتر کی تقسیم نہیں۔ نہ قرآن میں ایسا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں بہتر ہیں اور کچھ آیتیں غیر بہتر اور نہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں یہ فرق ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب باعتبار حقیقت بہتر ہے اور کوئی کتاب غیر بہتر۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں اس کے لیے یہ موقع ہے کہ ایک کلام کو خواہ سیدھے رخ سے لے یا الٹے رخ سے۔ وہ چاہے کلام کے اصل مدعا پر دھیان دے یا اس میں بے جا شوشے نکالے اور اس کو غلط معنی پہنائے۔ کلام الٰہی کا مذاق اڑانا اسی کی ایک مثال ہے۔ آدمی ایک آیت کو لے کر اس میں الٹا مفہوم نکالتاہے اور پھر اس خود ساختہ مفہوم کی بنا پر اس کا مذاق اڑانے لگتاہے۔
دنیا میں آدمی اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ وہ محض تکبر کی بنیاد پر حق کو نہیں مانتا اور ایسے الفاظ بولتا ہے گویا کہ وہ اصول کی بنیاد پر اس کا انکار کررہا ہے۔ مگر قیامت کے دن آدمی کا چہرہ اس کی اندرونی حالت کا مظہر بن جائے گا۔ اس وقت آدمی کا اپنا چہرہ بتائے گا کہ وہ جس حق میں ’’غیر بہتر‘‘ پہلو نکال کر اس کا منکر بنا رہا وہ صرف اس کے جھوٹے الفاظ تھے۔ ورنہ حق بذات خود بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس وقت وہ افسوس کرے گا مگر اس وقت کا افسوس کرنا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔