Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے
English (Sahih International)
Say, “O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 53 { قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے !“ قُلْ یٰعِبَادِیْکا اندازِ تخاطب اس سورت میں یہاں دوسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 10 میں ارشاد ہوا : { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو“۔ اب یہاں گویا پھر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اب تک کی زندگی اگر تم لوگوں نے غفلت میں گزار دی ہے تو اب بھی وقت ہے ‘ اب بھی ہوش میں آ جائو ! اور اگر تم نے اب تک اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو : { لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا } ”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ‘ یقینا اللہ سارے گناہ معاف فرما دے گا۔“ ٭ لیکن اس معافی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کے حضور خلوص دل سے توبہ کرو ‘ حرام خوری چھوڑ دو ‘ معصیت کی روش ترک کر دو اور آئندہ کے لیے اپنے اعمال کو درست کرلو۔ ایسی توبہ کا انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملے گا کہ تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔ سورة الفرقان میں اس بارے میں بہت واضح حکم موجود ہے : { اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًارَّحِیْمًا۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا۔ ”سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے ‘ تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ‘ اور اللہ غفور ہے ‘ رحیم ہے۔ اور جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے تو یہی شخص توبہ کرتا ہے اللہ کی جناب میں جیسا کہ توبہ کرنے کا حق ہے“۔ چناچہ سابقہ گناہوں کی معافی توبہ سے ممکن ہے ‘ لیکن توبہ وہی قبول ہوگی جس کے بعد انسان کے اعمال درست ہوجائیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو رسمی اور زبانی توبہ بےمعنی ہے۔ { اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ } ”یقینا وہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 53 and 54.
جن لوگوں کے سینے میں حساس دل ہے ان کو جب خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان کو یہ خیال ستانے لگتا ہے کہ اب تک ان سے جو گناہ ہوئے ہیں ان کا معاملہ کیا ہوگا۔ اسی طرح خدا پرستانہ زندگی اختیار کرنے کے بعد بھی آدمی سے بار بار کوتاہیاں ہوتی ہیں اور اس کی حساسیت دوبارہ اس کو ستانے لگی ہے۔ حتی کہ یہ احساس بعض لوگوں کو مایوسی کی حد تک پہنچادیتاہے۔
ایسے لوگوں کےلیے اللہ نے اپنی کتاب میں یہ اعلان فرمایا کہ انھیں یقین کرنا چاہيے کہ ان کا معاملہ ایک ایسے خدا سے ہے جو غفور ورحیم ہے۔ وہ آدمی کے ماضی کو نہیں بلکہ اس کے حال کو دیکھتاہے۔ وہ آدمی کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے باطن کو دیکھتا ہے۔ وہ آدمی سے وسعت کا معاملہ فرماتاہے ،نہ کہ خوردہ گیری کا معاملہ۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب اس کی طرف رجوع کرتاہے تو وہ ازسرِنو اس کو اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیتاہے ، خواہ اس سے کتنا ہی بڑا قصور کیوں نہ ہوگیا ہو۔