Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 39:50 Prev 39:48


Arabic

فَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلۡنَٰهُ نِعۡمَةٗ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمِۭۚ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں


English (Sahih International)

And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, “I have only been given it because of [my] knowledge.” Rather, it is a trial, but most of them do not know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 49 { فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَاز } ”تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے“ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰـہُ نِعْمَۃً مِّنَّا } ”پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں“ { قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ } ”تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر۔“ وہ کہتا ہے کہ یہ تو میری سمجھ ‘ ذہانت و فطانت اور منصوبہ بندی کا کمال ہے۔ میں نے بہت پہلے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ عنقریب اس چیز کی ڈیمانڈ آنے والی ہے ‘ چناچہ میں نے بر وقت فیکٹری لگا لی اور یوں میرے وارے نیارے ہوگئے۔ یہ مضمون سورة القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بڑی وضاحت کے ساتھ آچکا ہے۔ اس نے بھی اپنی دولت کے بارے میں کہا تھا : { اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ } آیت 78 کہ یہ سب کچھ تو مجھے میری ذہانت و فطانت کی وجہ سے ملا ہے۔ { بَلْ ہِیَ فِتْنَۃٌ وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے ‘ لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 49 to 52.

دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ حالاں کہ دنیا کی چیزیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ لیاقت کا انعام۔ اسی حقیقت کو جاننا سب سے بڑا علم ہے۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لے تو اس سے اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی نفسیات ابھرے گی۔ اس کے برعکس، جب آدمی ان کو آزمائش کا سامان سمجھتاہے تو اس کے اندر شکر اور تواضع کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

رزقِ دنیا کی کمی یا زیادتی تمام تر انسانی اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے باہر کوئی قوت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو زیادہ ملے اور کس کو کم دیا جائے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رزق کا فیصلہ شخصی لیاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ کسی اور بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ بنیاد یہی ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نہ کہ انعام کی جگہ۔ اس ليے یہاں کسی کو جو کچھ ملتاہے وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ امتحان لینے والا اپنے فیصلہ کے تحت کسی کو کوئی پرچہ دیتاہے اور کسی کو کوئی پرچہ۔ کسی کو ایک قسم کے حالات میں آزماتا ہے اور کسی کو دوسرے قسم کے حالات میں۔


Connections

  • Previous: 39_48
  • Next: 39_50
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes