Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَۚ قُلۡ أَوَلَوۡ كَانُواْ لَا يَمۡلِكُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَعۡقِلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟
English (Sahih International)
Or have they taken other than Allah as intercessors? Say, “Even though they do not possess [power over] anything, nor do they reason
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 43 { اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُفَعَآئَ } ”کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی سفارشی بنا رکھے ہیں ؟“ { قُلْ اَوَلَوْ کَانُوْا لَا یَمْلِکُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَعْقِلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے اگرچہ انہیں سرے سے کوئی اختیار ہی نہ ہو اور نہ ہی انہیں کچھ سمجھ ہو پھر بھی وہ تمہاری شفاعت کریں گے ؟“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 43 to 48.
عرب کے مشرکین جن کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا کے یہاں وہ ان کی شفاعت کرنے والے بن جائیں گے وہ حقیقۃً پتھر کے بت نہ تھے۔ یہ وہ بزرگ ہستیاں تھیں جن کی علامت کے طور پر انھوںنے پتھر کے بت بنا رکھے تھے۔ ان کے شفعاء دراصل ان کے قومی اکابر تھے جن کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ ان کا دامن پکڑے رہو، وہ خدا کے یہاں تمھارے ليے کافی ہوجائیںگے۔
جو لوگ غیر اللہ کے بارے میں اس قسم کا عقیدہ بنائیں، دھیرے دھیرے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری عقیدتیں اور شیفتگیاں ان ہی غیر خدائی شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہیں۔ ان شخصیتوں کی بڑائی کا چرچا کیا جائے تو اس کو سن کر وہ خوب خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ایک خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو ان کی روح کو اس سے کوئی غذا نہیں ملتی۔
ایسے لوگوں کے سامنے خواہ کتنے ہی طاقت وردلائل کے ساتھ توحید خالص کو بیان کیا جائے وہ اس کو ماننے والے نہیں بنتے۔ ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ قیامت کا پردہ پھاڑ کر خدا کا جلال بے نقاب ہوجائے۔ آج آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اعتراف کے الفاظ دینے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا مگر جب وہ وقت آئے گا تو وہ چاہے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے سب اس سے بچنے کےلیے فدیہ میں دے ڈالے۔ مگر وہاں آدمی کے اپنے اعمال کے سوا کوئی چیز نہ ہوگی جو اس کے کام آسکے۔