Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
لَّوۡ أَرَادَ ٱللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدٗا لَّٱصۡطَفَىٰ مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کر لیتا، پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو)، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب
English (Sahih International)
If Allah had intended to take a son, He could have chosen from what He creates whatever He willed. Exalted is He; He is Allah, the One, the Prevailing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 4 { لَوْ اَرَادَ اللّٰہُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰی مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ } ”اگر اللہ کا واقعی ارادہ ہوتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ چن لیتا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا“ اللہ کی نہ تو کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے ہاں اولاد کا کوئی تصور ہے۔ وہ اکیلا خالق ہے اور باقی ہرچیز اس کی مخلوق ہے ‘ فرشتے بھی اس کی مخلوق ہیں۔ اسے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنانے کی کوئی ضرورت یا حاجت نہیں ہے۔ { سُبْحٰنَہٗط ہُوَ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ } ”وہ پاک ہے۔ وہ اللہ ہے اکیلا اور کل کائنات پر چھایا ہوا۔“ ُ کل کائنات اور تمام مخلوقات پر اس کی حکومت قائم ہے۔ وہ سب پر قابو رکھنے والا اور غالب ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 4 and 5.
آدمی کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ ہے کہ وہ خدا کی طرف لپکے، وہ خدا کی پرستش کرے۔شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس جذبہ کو خدا کی طرف سے ہٹا کر دوسری طرف موڑ دے۔ اس کےلیے وہ لوگوں کے ذہن میں ڈالتاہے کہ خدا کی بارگاہ اونچی ہے، تم براہ راست خدا تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس ليے تم کو بزرگوں کے وسیلہ سے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہيے۔ اسی طرح وہ لوگوں کے ذہن میں یہ عقیدہ بٹھاتا ہے کہ جس طرح انسانوں کی اولاد ہوتی ہے اسی طرح خدا کی بھی اولاد ہے۔ اور خدا کو خوش رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ تم خدا کی اولاد کو خوش رکھو۔ جدید مادہ پرستی بھی اسی کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے جس نے آدمی کے جذبہ پرستش کو خالق سے ہٹا کر مخلوق کی طرف کردیا ہے۔
اس قسم کی تمام باتیں خدا کی تصغیر ہیں۔ جو خدا شمسی نظام کو چلا رہا ہے اور جس نے عظیم کائنات کو سنبھال رکھا ہے وہ یقینا اس سے بلند ہے کہ اس کے یہاں کسی کی سفارش چلے یا اس کے بیٹے بیٹیاں ہوں۔