Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 39:37 Prev 39:35


Arabic

أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِكَافٍ عَبۡدَهُۥۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اے نبیؐ) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اُس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں


English (Sahih International)

Is not Allah sufficient for His Servant [Prophet Muhammad]? And [yet], they threaten you with those [they worship] other than Him. And whoever Allah leaves astray - for him there is no guide


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 36 { اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ } ”کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے ؟“ یہاں بالخصوص نبی اکرم ﷺ اور تبعاً اہل ِایمان کی تسلی مقصود ہے کہ آپ لوگ مطمئن رہیں ‘ اللہ آپ کی مدد اور حفاظت کے لیے کافی ہے۔ لیکن بات میں زور پیدا کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا گیا ہے۔ { وَیُخَوِّفُوْنَکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ } ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے علاوہ ان کے معبود ہیں۔“ یہ لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کی طرف سے آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ آپ پر ان کی کوئی پھٹکار پڑجائے گی۔ اسی طرح سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی آپ علیہ السلام کی قوم نے دھمکی دی تھی کہ آپ نے ہمارے سارے معبودوں کی نفی کر کے انہیں ناراض کردیا ہے ‘ اب آپ پر ان کی پھٹکار پڑے گی اور ان کی طرف سے آپ کی پکڑ ہوگی۔ ان کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا الانعام : 81 کہ ”میں ان سے کیونکر ڈروں جن کو تم نے شریک ٹھہرایا ہے جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اس نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی !“ یعنی بدبختو ! مجھے تم ان پتھر کے ُ بتوں سے کیا ڈراتے ہو ‘ جب کہ ڈرنا تو تم لوگوں کو چاہیے کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو ! { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ } ”اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔“ جس کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دے اس کی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 36 and 37.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کے داعی تھے۔ مگر آپ کا طریقہ یہ نہ تھا کہ ’’خدا ایک ہے‘‘کے مثبت اعلان پر اکتفافرمائیں۔ اسی کے ساتھ آپ ان غیر خدائی ہستیوں کی تردید بھی فرماتے تھے جن کو لوگوں نے بطور خود معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ آپ کی دعوت کا یہی دوسرا جزء لوگوں کےلیے ناقابل برداشت بن گیا۔

یہ غیر خدائی ہستیاں دراصل ان کے قومی اکابر تھے۔ صدیوں سے وہ ان کی کرامت کی مبالغہ آمیز داستانیں سنتے آرہے تھے۔ ان کے ذہن پر ان ہستیوں کی عظمت اس طرح چھا گئی تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تقدس کی تردید فرمائی تو ان کی سمجھ میں کسی طرح نہ آیا کہ وہ غیر مقدس کیسے ہوسکتے ہیں۔ انھوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ورنہ تم تباہ ہوجاؤ گے۔ یا تم کو جنون ہو جائے گا (لَتَكُفَّنَّ عَنْ شَتْمِ آلِهَتِنَا أَوْ لَيُصِيبَنَّكَ مِنْهُمْ خَبَلٌ أَوْ جُنُونٌ) تفسیرالبغوی، جلد4، صفحہ 90۔

مگر حق کے داعی کو حکم ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کی پروا نہ کرے۔ وہ اللہ کے بھروسے پر اثباتِ توحید اور تردیدِ شرک کا دو گونہ کام جاری رکھے۔ کیوں کہ اس کے بغیر امر حق پوری طرح واضح نہیں ہوسکتا۔


Connections

  • Previous: 39_35
  • Next: 39_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes