Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى ٱللَّهِ وَكَذَّبَ بِٱلصِّدۡقِ إِذۡ جَآءَهُۥٓۚ أَلَيۡسَ فِي جَهَنَّمَ مَثۡوٗى لِّلۡكَٰفِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟
English (Sahih International)
So who is more unjust than one who lies about Allah and denies the truth when it has come to him? Is there not in Hell a residence for the disbelievers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 32 { فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآئَ ہ } ”اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور جھٹلائے سچی بات کو جبکہ اس کے پاس آگئی ہو !“ یہ دونوں خصوصیات ایک ہی شخص کے کردار میں بھی ہوسکتی ہیں کہ وہ اللہ پر جھوٹ بھی باندھ رہا ہو اور اللہ کی طرف سے جو حق اس کے پاس آیا ہے اس کی تکذیب یا نفی بھی کر رہا ہو۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دو الگ الگ کرداروں کا ذکر ہو۔ یعنی ایک وہ شخص جو اپنی کسی بات کو اللہ کی طرف منسوب کر کے دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ ظاہر ہے ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اسی درجے کا ظالم وہ شخص بھی ہوگا جس کے پاس اللہ کا کلام پہنچ جائے جو کہ سراسر حق ہے اور وہ اس حق کو جھٹلا دے۔ { اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ } ”تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کافروں کا !“ اب اگلی آیت میں اس کے برعکس کردار کا ذکر ہے :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 32 to 35.
ہر وہ نظریہ جومطابقِ حقیقت نہ ہو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ ہر دور میں لوگ اسی قسم کے جھوٹ پر جی رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کا داعی اس ليے اٹھتا ہے کہ وہ ایسے جھوٹ کا جھوٹ ہونا ثابت کرے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے جھوٹ پر قائم رہیں وہ ڈھٹائی کرنے والے لوگ ہیں۔ وہ جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ اور جو لوگ رجوع کرکے حق کے ساتھی بن جائیں وہی وہ لوگ ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ثابت ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی برائیوں کو ان کے اعمال سے حذف کردے گا اور ان کے نیک اعمال کی بناپر ان کی قدر دانی فرمائے گا۔