Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 39:28 Prev 39:26


Arabic

وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں


English (Sahih International)

And We have certainly presented for the people in this Qur’an from every [kind of] example - that they might remember


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 27 { وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ } ”اور ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں“ مختلف احکام و مسائل کو قرآن میں کھول کھول کر اور اسلوب بدل بدل کر بیان کردیا گیا ہے۔ { لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ } ”شاید کہ وہ سبق حاصل کریں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 27 to 31.

قرآن کے بیانات انسان کی معلوم زبان اور انسان کے معلوم دائرہ کے اندر ہوتے ہیں تاکہ کسی کےلیے اس کا سمجھنا مشکل نہ ہو۔

یہاں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ شرک کے مقابلہ میں توحید کا اصول زیادہ معقول اور زیادہ مطابقِ فطرت ہے۔ ایک طرف خارجی کائنات بتاتی ہے کہ یہاں ایک ہی ارادہ کی کارفرمائی ہے۔ اگر یہاں کئی ارادوں کی کارفرمائی ہوتی تو کائنات کا نظام اس قدر ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتا تھا۔ دوسری طرف انسان کی ساخت بھی ایسی ہے جو وفاداری میں وحدت کو پسند کرتی ہے۔ یہ بات انسانی ساخت کے سراسر خلاف ہے کہ ایک انسان پر بیک وقت کئی مختلف قسم کی وفاداریوں کی ذمہ داری ہو اور نتیجۃً وہ ایک کو بھی نباہ نہ سکے۔

تمام دلائل وقرائن یہی بتاتے ہیں کہ صرف ایک خدا ہے جو انسان کا خالق اور اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ حقیقت اپنے جیسے انسان کی زبان سے سنائی جاتی ہے۔ قیامت میں خود خالق کائنات اس حقیقت کا اعلان فرمائے گا۔ اس وقت کسی شخص کےلیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اس امر کا انکار کرسکے۔


Connections

  • Previous: 39_26
  • Next: 39_28
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes