Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ ٱلۡعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي ٱلنَّارِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اے نبیؐ) اُس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو؟ کیا تم اُسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہو؟
English (Sahih International)
Then, is one who has deserved the decree of punishment [to be guided]? Then, can you save one who is in the Fire
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 19{ اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ } ”تو کیا وہ شخص جس پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فیصلہ !“ اس کے بعد یہ جملہ گویا محذوف ہے : کَمَنْ ھُوَ فِی الْجَنَّۃِ ؟ یعنی جو شخص عذاب کا مستحق ہوچکا ہے کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے گا جو کہ جنت میں جانے والا ہے ؟ { اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ } ”تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ اس کو بچا سکیں گے جو آگ میں ہے ؟“ یہ وہ لوگ ہیں جو عذاب سے متعلق اللہ کے قانون کی زد میں آ چکے ہیں۔ اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ان کے دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں۔ وہ گمراہی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب ایمان کی طرف ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ چناچہ اب وہ آگ کا ایندھن بننے والے ہیں اور اس مرحلے پر آپ ﷺ ان کو اس بھیانک انجام سے نہیں بچا سکتے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 19 and 20.
ہر آدمی اپنے اعمال کے انجام کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ جنت والے کو جنتی فضا گھیرے ہوئے ہے اور جہنم والے کو جہنمی فضا گھیرے ہوئے ہے۔ غیر مرئی حقیقتوں کو دیکھنے والی نگاہ ہو تو لوگ جنت والے انسان کو اسی دنیا میں جنت میں دیکھیں اور جہنم والے انسان کو اسی دنیا میں جہنم میں گھرا ہوا پائیں۔
جنت آرزوؤں کی اس دنیا کی آخری معیاری صورت ہے جس کو آدمی دنیا میں حاصل کرنا چاہتا ہے مگر وہ اس کو حاصل نہیں کرپاتا۔ اس جنت کی قیمت اللہ کا تقویٰ ہے۔ جو لوگ دنیا میں خوفِ خدا کا ثبوت دیں گے وہی جنت کی بے خوف زندگی کے مالک بنیں گے۔