Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلَّذِينَ ٱجۡتَنَبُواْ ٱلطَّـٰغُوتَ أَن يَعۡبُدُوهَا وَأَنَابُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ لَهُمُ ٱلۡبُشۡرَىٰۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو
English (Sahih International)
But those who have avoided Taghut, lest they worship it, and turned back to Allah - for them are good tidings. So give good tidings to My servants
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 17 { وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْہَا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت سے کنارہ کشی کرلی اس طرح کہ اس کی بندگی نہ کی“ طاغوت کا لفظ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سب سے پہلے ہم نے یہ لفظ سورة البقرۃ کی اس آیت میں پڑھا تھا : { فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق } آیت 257 ”تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا“۔ لفظ طاغوت کا مادہ ”طغی“ ہے اور اس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ اسی مادہ سے اردو لفظ ”طغیانی“ مشتق ہے۔ دریا اپنے کناروں کے اندر بہہ رہا ہو تو بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے لیکن جب وہ اپنی ”حدود“ سے باہر نکل آئے تو ہم کہتے ہیں کہ دریا میں طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح انسان اگر اللہ کی بندگی کی حد میں رہے تو وہ اللہ کا بندہ ہے ‘ اس کا خلیفہ ہے اور اشرف المخلوقات ہے۔ لیکن اگر بندگی کی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ ”طاغوت“ ہے۔ پھر چاہے ان حدود کو پھلانگنے کے بعد وہ اپنے نفس کا بندہ بن جائے یا کسی اور کو اپنا مطاع بنا لے ‘ خود حاکم بن بیٹھے یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی حاکمیت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے ‘ اللہ کی نظر میں وہ طاغوت ہی ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے کنارہ کشی کرلی اس سے کہ وہ طاغوت کی اطاعت یا بندگی کریں : { وَاَنَابُوْٓا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰیج فَبَشِّرْ عِبَادِ } ”اور انہوں نے رجوع کرلیا اللہ کی طرف ‘ ان کے لیے بشارت ہے ‘ تو اے نبی ﷺ ! میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجیے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اب اگلی آیت بہت اہم ہے ‘ اس میں ان بندوں کی صفت بیان کی گئی ہے جنہیں بشارت دی جا رہی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 17 and 18.
موجودہ دنیا فتنہ کی دنیا ہے۔ یہاں حقیقتیں اپنی آخری بے نقاب شکل میں ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر بات کو غلط معنی پہنایا جاسکتاہے۔ شیطان اسی امکان کو استعمال کرکے لوگوں کو راہ راست سے بھٹکاتا ہے۔
جب بھی کوئی حق سامنے آتا ہے تو شیطان اس کو غلط معنی پہنا کر لوگوں کے ذہن کو پھیرنے کی کوشش کرتاہے۔ وہ قول کے احسن پہلو سے ہٹا کر قول کے غیر احسن پہلو کو لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ آدمی کو اس عقل کا ثبوت دینا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے درمیان تمیز کرے۔ وہ شیطانی فریب کاپردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔ جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دیں وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو خدائی سچائی کو پائیں گے اور جو لوگ اس بصیرت کا ثبوت دینے میں ناکام رہیں، ان کےلیے اس دنیا میں اس کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں کہ وہ قول کے غیر احسن پہلوؤں میں الجھے رہیں اور خدا کے یہاں شیطان کے پرستار کی حیثیت سے اٹھائے جائیں۔