Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُلۡ يَٰعِبَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۗ وَأَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٌۗ إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّـٰبِرُونَ أَجۡرَهُم بِغَيۡرِ حِسَابٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اے نبیؐ) کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے اور خدا کی زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا
English (Sahih International)
Say, “O My servants who have believed, fear your Lord. For those who do good in this world is good, and the earth of Allah is spacious. Indeed, the patient will be given their reward without account
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 10 { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔“ تم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہو تو اب تمہیں ہر وقت اللہ کی رضا جوئی کی فکر ہونی چاہیے۔ لہٰذا اللہ جو کام کرنے کا حکم دے وہ کرو اور جس سے وہ منع کرے اس سے باز رہو۔ یہاں پر مسلمانوں کو نبی اکرم ﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر ذہن نشین کرلیں کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو مخاطب کرنے کا یہی انداز ملتا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست خطاب کا اسلوب صرف مدنی سورتوں میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں اہل ایمان سے براہ راست خطاب کرنے کے بجائے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ میری طرف سے میرے اہل ایمان بندوں کو یہ پیغام پہنچا دیں : { لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ} ”جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے ‘ ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے۔“ { وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ} ”اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔“ اگر مکہ میں رہتے ہوئے تمہارے لیے توحید پر کاربند رہنا ممکن نہیں رہا تو یہاں سے ہجرت کر جائو۔ { اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ”یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر پورا پورا دیا جائے گا بغیر حساب کے۔“ اجر کے حوالے سے یہاں پر یُوَفَّی کا اصول بھی بتایا گیا ہے اور بِغَیْرِ حِسَابٍ کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ یعنی پورا پورا بدلہ دینے کے بعد اللہ کا مزید فضل بھی ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے معاملے میں حساب کا کوئی سوال ہی نہیں !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
آدمی کو جب اللہ کی گہری معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کالازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ اللہ سے ڈرنے والا بن جاتاہے۔ اللہ کی عظمتوں کا ادراک اس کو اللہ کے آگے پست کردیتاہے۔ اس کی عملی زندگی اللہ کے احکام کی پابندی میں گزرنے لگتی ہے۔ وہ اس معاملہ میں اس حد تک سنجیدہ ہوجاتا ہے کہ وه سب کچھ چھوڑ دے مگر اللہ کو نہ چھوڑے۔
ایمان کے اوپر زندگی کی تعمیر کرنا آدمی کےلیے زبردست امتحان ہے۔ اس امتحان میں وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کےلیے ایمان اتنی قیمتی دولت ہو کہ اس کی خاطر وہ ہر دوسری چیز پر صبر کرنے کےلیے راضی ہوجائیں۔ ایمانی زندگی عمل کے اعتبار سے صبر والی زندگی کا دوسرا نام ہے۔ جو لوگ صبر کی قیمت پر مومن بننے کےلیے تیار ہوں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے اعلیٰ انعامات میں حصہ دار بنائے جائیں گے۔