Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 38:87 Prev 38:85


Arabic

قُلۡ مَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٖ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُتَكَلِّفِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

(اے نبیؐ) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں


English (Sahih International)

Say, [O Muhammad], “I do not ask you for the Qur’an any payment, and I am not of the pretentious


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 86 { قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا“ یہ واقعہ سنا کر اب حضور ﷺ سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ انہیں جتلائیں کہ میں تم لوگوں کو یہ غیب کی خبریں سنا رہا ہوں ‘ ازل میں رو نما ہونے والے واقعات کی تفصیلات سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں ‘ لیکن تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ میں نے اس سب کچھ کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجر یا انعام تو طلب نہیں کیا۔ { وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ } ”اور میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔“ مُتَـکَلِّف تکلف کرنے والا کا مفہوم سمجھنے کے لیے دو ایسے اشخاص کی مثال سامنے رکھیں جن میں سے ایک شاعر ہے اور دوسرا متشاعر۔ ایک شخص فطری طور پر شاعر ہے ‘ شاعری اس کی طبیعت میں گندھی ہوئی ہے اور اس پر اشعار کی آمد ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص متشاعر کی طبیعت شعر کے لیے بالکل موزوں نہیں ہے۔ البتہ وہ محنت کرتا ہے ‘ علم عروض کے امور سیکھنے کی کوشش کرتا ہے ‘ ذخیرئہ الفاظ جمع کرتا ہے ‘ قافیے جوڑتا ہے اور یوں تصنع ّاور تکلف ّسے شعر کہتا ہے۔ چناچہ یہ شخص شاعری کے میدان میں گویا ”مُتَکَلِّف“ ہے۔ چناچہ ان آیات میں حضور ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین ِمکہ ّکے لیے کہلوایا جا رہا ہے کہ لوگو ! کچھ تو عقل سے کام لو ‘ تم لوگ مجھے بچپن سے جانتے ہو : { فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖط } یونس : 16 ”میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے بھی“۔ میرے عادات واطوار اور میری طرز زندگی سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ تم خوب جانتے ہو کہ میں کوئی تکلف اور تصنع پسند شخص نہیں ہوں۔ تم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو کہ میں نے اب تک کی عمر میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا ‘ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے خطابت کا فن سیکھنے کے لیے کبھی کوئی مشقت یا ریاضت نہیں کی۔ تو تم لوگوں نے یہ کیسے سوچ لیا ہے کہ اب میں نے اچانک تکلف اور تصنع کا سہارا لے کر شاعری میں طبع آزمائی شروع کردی ہے اور تم لوگوں کو وحی کے نام پر میں اپنا کلام سنا رہا ہوں ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 86 to 88.

داعی کی ایک لازمی صفت یہ ہے کہ وہ مدعو سے اجر کا طالب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اور مدعو کے درمیان کوئی مادی جھگڑا نہیں کھڑا کرتا۔ قرآن کی دعوت آخرت کی دعوت ہے۔ اس ليے جو شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف قرآن کی دعوتِ آخرت کا علم بردار ہو، اور اسی کے ساتھ مدعو قوم سے مادی مطالبات کی مہم بھی چلائے وہ مدعو کی نظر میں ایک غیر سنجیدہ آدمی ہے۔ اور جو آدمی خود اپنی غیرسنجیدگی ثابت کردے اس کی بات پر کون دھیان دے گا۔

اسی طرح داعی اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات نہیں کہتا۔ وہ بس وہی کہتا ہے جو خدا کی طرف سے اس کو ملا ہے۔ مسروق تابعی کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوںنے کہا کہ اے لوگو، جو شخص کچھ جانتا ہو تو اس کو چاہيے کہ بولے۔ اور جو شخص نہ جانتا ہو تو ا س کو یہ کہنا چاہيے کہ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ یہ علم کی بات ہے کہ آدمی جس چیز کو نہ جانے اس کے بارہ میں کہہ دے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ عزو جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ کہو کہ میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4809)۔

اسی طرح داعی کی یہ صفت ہے کہ وہ دعوت کو نصیحت کے روپ میں پیش کرے۔ اس کا کلام خیر خواہانہ کلام ہو، نہ کہ مناظرانہ کلام۔


Connections

  • Previous: 38_85
  • Next: 38_87
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes