Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
هَٰذَا ذِكۡرٞۚ وَإِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ لَحُسۡنَ مَـَٔابٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ ایک ذکر تھا (اب سنو کہ) متقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے
English (Sahih International)
This is a reminder. And indeed, for the righteous is a good place of return
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 49 { ہٰذَا ذِکْرٌط وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”یہ ایک ذکر ہے ‘ اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 49 to 54.
جنت کے دروازے ان لوگوں کےلیے کھولے جاتے ہیں جو اپنے دل کے دروازے نصیحت کےلیے کھولیں۔ جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی نعمتوں کے حصہ دار ہوں گے۔
قرآن میں آخرت کی جن نعمتوں کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو دنیا میں بھی انسان کو حاصل ہوتی ہیں۔ مگر دونوں میں زبردست فرق ہے۔ وہ یہ کہ دنیا میں یہ نعمتیں وقتی اور ابتدائی شکل میں دی گئی ہیں اور آخرت میں یہ نعمتیں ابدی اور انتہائی شکل میں دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ ان اعلیٰ نعمتوں کے ساتھ ہر قسم کے خوف اور اندیشہ کو حذف کردیا جائے گا جن کا حذف ہونا موجودہ دنیامیں کسی طرح ممکن نہیں۔