Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 38:46 Prev 38:44


Arabic

وَٱذۡكُرۡ عِبَٰدَنَآ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ أُوْلِي ٱلۡأَيۡدِي وَٱلۡأَبۡصَٰرِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور ہمارے بندوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے


English (Sahih International)

And remember Our servants, Abraham, Isaac and Jacob - those of strength and [religious] vision


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 45 { وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ } ”اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم علیہ السلام ‘ اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کا ‘ جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 45 to 48.

یہاں چند پیغمبروں کا ذکر کرکے ارشاد ہوا ہے کہ وہ ہاتھ والے اور آنکھ والے تھے۔ یعنی ان کو جسمانی قوت اور ذہنی بصیرت دونوں اعلیٰ درجہ میں حاصل تھی۔ ایک طرف وہ عملی صلاحیت کے مالک تھے۔ دوسری طرف انھوںنے اس معرفت کا ثبوت دیا کہ وہ چیزوں کو صحیح نظر سے دیکھنے اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ خدا نے ان کو اپنے پیغام کی پیغام بری کےلیے چن لیا۔

خدا کا خاص کام کیا ہے جس کےلیے وہ انسانوں میں سے اپنے پیغمبر چنتا ہے۔ وہ ہے آخرت کے گھر کی یاد دہانی۔ پیغمبروں کا خاص مشن ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کو اس حقیقت سے باخبر کریں کہ انسان کی اصل منزل آخرت ہے۔ اور انسان کو اسی کی تیاری کرنا چاہيے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور اس دنیا میں سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو اس سنگین مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔


Connections

  • Previous: 38_44
  • Next: 38_46
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes