Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَأَقۡبَلُوٓاْ إِلَيۡهِ يَزِفُّونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(واپس آ کر) وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے
English (Sahih International)
Then the people came toward him, hastening
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 94{ فَاَقْبَلُوْٓا اِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ } ”تو وہ اس کی طرف آئے ‘ دوڑتے ہوئے۔“ اس واقعہ کے بارے میں کچھ تفصیل سورة الانبیاء کے پانچویں رکوع میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہاں پر باقی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ کر چورا کردیا ‘ سوائے ایک بڑے بت کے۔ صورتِ حال انتہائی نازک اور تشویشناک تھی اور اس غیر معمولی واقعہ کے بعد شہر میں تو گویا قیامت برپا ہوگئی ہوگی۔ لیکن جب قوم کے بہت سے لوگ غیظ و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں بھاگم بھاگ آپ علیہ السلام تک پہنچے تو آپ علیہ السلام نے نہ صرف بلا خوف ان کا سامنا کیا بلکہ ان کے ساتھ مدلل مناظرہ بھی کیا :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 37:88.