Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 37:7 Prev 37:5


Arabic

إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِزِينَةٍ ٱلۡكَوَاكِبِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم نے آسمان دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے


English (Sahih International)

Indeed, We have adorned the nearest heaven with an adornment of stars


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 6{ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ } ”ہم نے مزین کردیا ہے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زیبائش سے۔“ السَّمَائَ الدُّنْیَا مرکب توصیفی ہے ‘ یعنی سب سے قریب والا آسمان۔ دَنَا یَدْنُو کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور اسی سے ادنٰیہے یعنی ”قریب ترین“ جبکہ ”دُنْیَا“ کا لفظ اس کا مونث ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 6 to 18.

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔

انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔


Connections

  • Previous: 37_5
  • Next: 37_7
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes