Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 37:159 Prev 37:157


Arabic

وَجَعَلُواْ بَيۡنَهُۥ وَبَيۡنَ ٱلۡجِنَّةِ نَسَبٗاۚ وَلَقَدۡ عَلِمَتِ ٱلۡجِنَّةُ إِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اِنہوں نے اللہ اور ملائکہ کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے، حالانکہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں


English (Sahih International)

And they have claimed between Him and the jinn a lineage, but the jinn have already known that they [who made such claims] will be brought to [punishment]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 158{ وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا } ”اور انہوں نے تو اللہ کے اور ِجنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کردیا ہے۔“ { وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 158 to 166.

گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔

انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔


Connections

Tafsir Notes