Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَلِرَبِّكَ ٱلۡبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلۡبَنُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر ذرا اِن لوگوں سے پوچھو، کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رب کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے
English (Sahih International)
So inquire of them, [O Muhammad], “Does your Lord have daughters while they have sons
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 149{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھیں ‘ کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !“ یہاں مشرکین ِمکہ ّکے اس عقیدے پر جرح کی جا رہی ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی یہ لوگ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ اللہ سے اولاد منسوب کرتے ہیں تو اس کے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 149 to 157.
شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔