Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِذۡ أَبَقَ إِلَى ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یاد کرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا
English (Sahih International)
[Mention] when he ran away to the laden ship
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 140{ اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ } ”جب وہ بھاگ کر پہنچا اس کشتی کی طرف جو پہلے سے ہی بھری ہوئی تھی۔“ لفظ ”اَبَقَ“ کسی غلام کا اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جانے پر بولا جاتا ہے۔ اس واقعے کا ذکر سورة یونس اور سورة الانبیاء میں بھی آچکا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور ان کے مسلسل انکار اور کفر کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قانون اور طریقہ یہی رہا ہے کہ کسی قوم پر عذاب سے قبل رسول کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا اور رسول کے ہجرت کر جانے کے بعد متعلقہ قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ حضرت یونس علیہ السلام سے اس ضمن میں یہ لغزش ہوگئی کہ آپ علیہ السلام حمیت ِحق کے جوش میں غضبناک ہو کر سورۃ الانبیاء کی آیت 87 میں اس حوالے سے { اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا } کے الفاظ آئے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح اجازت ملنے سے قبل ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل آئے اور دجلہ یا فرات میں سے کسی دریا کو پار کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوگئے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 37:139.