Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِنَّ إِلۡيَاسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور الیاسؑ بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا
English (Sahih International)
And indeed, Elias was from among the messengers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 123{ وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا الیاس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور شہر ”بَعْلَبَک“ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھا جس کا نام آگے آیت 125 میں ”بعل“ بتایا گیا ہے۔ اسی ُ بت کے نام پر اس شہر کا نام ”بعلبک“ بعل کا بک رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔ پرانی عبرانی زبان میں شہر کو بک یا بکہ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ مکہ کا پرانا نام بھی بَکّہ تھا ‘ جس کا حوالہ سورة آل عمران کی آیت 96 میں آیا ہے۔ بہر حال اس قوم کے لوگوں نے اس شہر کو اپنے معبود کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 123 to 132.
حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔