Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَٱلصَّـٰٓفَّـٰتِ صَفّٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم
English (Sahih International)
By those [angels] lined up in rows
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔“ گویا وہ بارگاہِ خداوندی میں ہمہ وقت حاضر رہنے والے خادمین ہیں جو احکامات کی تعمیل کے لیے ہر لمحہ کمربستہ رہتے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 5.
پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔
خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 37_2
- Thematic: (add links here)